پارلیمانی جمہوریت ناکام ہندوستان کو آمرانہ طرز حکومت کی ضرورت : مارکنڈے کاٹجو

مارکنڈے کاکجو
کئی افراد میری اس عادت پر کہ میں ہمیشہ ہندوستان ، نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش کے معاملات پر تنقید کرتا رہتا ہوں لیکن ان کا کوئی حل دریافت کرتا پر سخت ناراض ہیں۔ چنانچہ میرا یہ مندرجہ ذیل مضمون اُن کے جواب کیلئے تحریری کررہا ہوں۔
ہاں یہ بالکل صحیح ہے کہ میں ہمارے ملک اور پڑوسی ممالک کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتا رہتا ہوں کیونکہ یہاں کے معاملات نفرت انگیزہیں۔ اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمارے حکمراں بدقماش لوگ ہیں نہ جنہیں نہ تو اپنے ملک سے محبت ہے اور نہ ہی یہاں کے افراد سے بلکہ یہ صرف اقتدار کے بھوکے ہیں۔ ہمارے سماج کی اکثریت میں دانشمندی کا فقدان ہے اور ان کی ذہنی سوچ پر جاگیردارانہ نظام کی چھاپ ہے جو فرقہ پرستی اور ذات پات، تعصب سے بھری ہوئی ہے، جس کا ہمارے قائدین استحصال کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کے عوام کی اکثریت بڑے پیمانہ پر غربت، بیروزگاری ، کسانوں کی مایوسی ( تقریباً ایک لاکھ کسان ہندوستان میں خودکشی کرچکے ہیں ) تغدیہ کی کمی، صحت عامہ اور اچھی تعلیم کا فقدان جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی، خواتین اور دلت طبقہ کے ساتھ امتیاز برتنا یہ ہمارے ملک میں ایک عام بات ہے۔ ان سارے معاملات پر میں تنقید کرتا رہتا ہوں کیونکہ تعمیر نوع کیلئے تخریب ضروری ہے۔ ایک بار یہ سارا نظام ڈھاجائے تو اس کی جگہ ایک نئے نظام کی شروعات کی جاسکتی ہے، ہمیں ہماری عوام نہ صرف اعلیٰ معیار زندگی کی شروعات کریں بلکہ قابل عزت زندگی گذارسکیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مثبت حل کیا ہے؟۔ اس کے لئے میں بنیادی مسئلہ کی جانب توجہ دیتا ہوں۔

ہم نے جو پارلیمانی جمہوریت نظام اپنایا ہے وہ مغربی ممالک کی طرف سے مستعار لیا گیا ہے۔ لیکن ہندوستانی پارلیمانی جمہوریت درحقیقت نام ہے اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو ووٹس کی خاطر اپنی جانب راغب کرنا اور جب کوئی ہندوستانی ووٹ ڈالنے کیلئے جاتا ہے تو وہ امیدوار کی کوئی بھی خوبی نہیں دیکھتا بلکہ اس کی ذات یا مذہب کو ہی دیکھتا ہے۔ ( یعنی اس پارٹی کے امیدوار کا مذہب یا ذات کیا ہے ) ہندوستان کو اگر ترقی کرنا ہو تو ذات پات اور فرقہ پرستی جو جاگیردارانہ نظام کی دین ہیں ختم کرنا ہوگا۔ لیکن بڑی تعجب خیز بات ہے کہ پارلیمانی جمہوریت ان کو ہوا دیتی ہے۔
پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد اکثریتی ووٹ ہیں لیکن یہ ایک سانحہ ہے کہ ہماری اکثریت دانشمندی سے عاری ہے تو ایسی صورت میں وہ کس طرح اچھے نمائندوں کا انتخاب کرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میرا پارلیمانی جمہوریت میں ایقان نہیں رہا۔ چنانچہ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کا نعم البدل کیا ہے؟
میری دانست میں اس کا جواب کچھ چنندہ افراد ر مشتمل آمرانہ طرزِ حکمرانی ہے جس کا ذہن جدید سائینٹفک ہو اور وہ جاگیردارانہ نظام کی نشانیوں جیسے اس دور کے رسم رواج، مذہبی انتہا پسندی کو یکلخت کچل دے اور ملک کو جدید اور صنعت کاری سے لیس کرکے عوام کو ایک اعلیٰ طرزِ زندگی اور باعزت وقار عطاء کرنے کسی بھی سیاسی نظام کو جانچنے کا صرف ایک ہی طریقہ کار ہے۔ وہ یہ ہے کہ آیا وہ عوام کو ایک باوقار طرز زندگی عطا کرسکتے ہیں یا نہیں ، چاہے وہ پارلیمانی جمہوریت ہو یا فوجی طرز حکومت یا پھر اشتراکی طرز حکومت۔ ہم اس کے لئے مندرجہ ذیل تین مثالیں لے سکتے ہییں۔

۔۔ ترکی : … ترکی ( خلافت عثمانیہ ) میں ہر کسی زمانہ میں جاگیردارانہ ذہن کے حامل سلطانوں کی حکومت تھی جو ملک کو پسماندہ بناکر رکھ دیئے تھے اور عوام غربت کا شکار تھی اور ترکی کو ’’ یوروپ کا بیمار شخص ‘‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ مصطفے کمال اتاترک(1881-1938) جوو ایک فوجی جنرل تھے 1923 بادشاہت اور خلافت کو ختم کرکے اقتدار پر قابض ہوگئے تھے اس کے بعد انہوں نے ترکی کو جمہوری ملک میں تبدیل کردیا ۔ انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ ترکی کی خرابی کی جڑ اُس کا جاگیر دارانہ نظام اور پسماندگی ہے چنانچہ انہوں نے یکلخت اُن کو ختم کرکے ملک کی جدید کاری اور صنعتی ترقی کی جانب توجہ دی اور وہ عوام کو مغربی تہذیب اختیار کرنے کی ہمت افزائی کی ۔ انہوں نے ملک میں شرعی اور مذہبی عدالتوں پر پابندی عائد کرکے اُن کی جگہ مغربی قوانین کو نافذ کردیا۔
دینی مدرسوں پر پابندی عائد کردی ان کی جگہ جدید سیکولر مدرسوں کی بنیاد ڈالی ۔ انہوں نے برقعہ اور ٹوپی پر بھی پابندی عائد کردی اور خوتین کو مَردوں کے مساویانہ حقوق عطاء کئے اور کثرت ازدواج پر پابندی لگادی۔ ترکی کے عربی رسم الخط کو بدل کر رومن رسمالخط رائج کی اور اس طرح سے مصطفے کمال نے جس تیزی سے ملک کی جہد کاری کی اس کی کسی بھی جانب سے مخالفت نہیں کی گئی ۔ اس طرح سے جاگیردارانہ نظام کا ترکی میں مکمل خاتمہ ہوگیا۔
۔۔ جاپان : … 1867 تک جاپان جاگیردارانہ ٹوکوگاوا کے زیر اقتدار رہا ہاں پر صرف اس کے فرمانبروا کی ہی حکمرانی چلتی تھی۔ شوگن کے زیر تحت ڈائم یوس ( جاگیردار ) ہوا کرتے تھے جو نہ صرف زمیندار تھے بلکہ ان کی اپنی ایک فوج ( سمورائی ) ہوا کرتی تھی۔ لیکن 1868 میں میجی بحالی کے بعد شوگن اور جاگیردارانہ نظام پر پابندی عائد کردی گئی۔ اس کے بعد ملک تیزی سے صنعت کاری اور جدید کاری پر سخت گامزن ہوگیا۔ اس کے بعد جاپان میں جو بھی لیڈر برسراقتدار آیا وہ جدیدیت میں یقین رکھنے والا ملک کو تیزی سے صنعتی ترقیافتہ اور خود میں تبدیل کردیا۔ مغربی انجینئرز اور سائینسداں کو جاپان مدعو کیا گیا تاکہ ملک کی جدید کاری کی جاسکے۔ کئی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں پر مغربی پروفیسرز کو خانگی ممبرز کی حیثیت فائز کیا گیا۔
حکومت نے ریلویز ، روڈز اور شپ یارڈز کا انفراسٹرکچر تیار کیا ۔ ٹیلی گراف اور الکٹریسٹی کو ترقی دی گئی اور کئی صنعتوں کو قائم کیا گیا جس میں شپ یارڈز ، لوہے کو پگھلانے والے، کپڑا صنعت ،کاٹن، شکر، سمنٹ ، کیمیکلس اور گلاس انڈسٹریز وغیرہ قائم کئے گئے جو آگے چلکر خانگی اداروں کو فروخت کرکے چلے گئے۔ ڈیم پوز کے حلقہ حکمرانی کو مسدود کردیا گیا اور ساتھ ہی ان خانگی فوج پر بھی پابندی عائد کردی گئی ان کی جگہ جدید قومی فوج جس میں بین الاقوامی معیار کے ہتھیار اور جوان تاکہ سمورائی کلاس رتبہ کے حامل ترتیب دی گئی۔ سارے جاپان کے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے ابتدائی تعلیم لازم کردی گئی۔اس تیز صنعتی ترقی اور جدت کاری کا نتیجہ نکلا کہ جاپان نے 1904 میں یوروپ اور روس کو جنگ میں شکست فاش دے ڈالی۔
۔۔ چین :… 1911 تک چن کنگ خاندان کے زیر تحت جاگیردارانہ نظام کے زیر اثر زیر اقتدار رہا جس میں ملک انتہائی پسماندہ اور غربت کا شکار رہا۔ جس کا خاتمہ 1911 میں ہوگیا۔ اس کے بعد ملک طوائف الملوکی اور جاپان کے ساتھ جنگ میں برسر پیکار رہا بالآخر 1949میں انقلاب برپا ہوا اور مابعد انقلاب جتنے بھی حکمراں برسراقتدار آئے وہ نہایت ہی جدیدیت ذہن رکھنے والے تھے اور ملک کو صنعتی انقلاب سے روشناس کروایا۔ حالانکہ وہ کمیونسٹ ضرورتھے لیکن ان کا کمیونزز روس کے کمیونزم سے مختلف تھا۔ یعنی جاگیر دارانہ نظام کے خلاف تھا۔ جس کو انہوں نے یکلخت ختم کرکے رکھ دیا تھا۔

آج چین دنیا کا دوسرا سوپر پاور ملک کی حیثیت رکھتا ہے جس نے معجزانہ طور پر صرف 70 سال کے عرصہ میں ملک کو غربت کی کی سطح سے اونچا کرکے دنیا کے متمول ملکوں کی صف میں ٹھہرادیا۔
مندرجہ بالا تین مثالوں سے واضح ہے کہ تینوں ملکوں کے انقلاب میں پارلیمانی جمہوریت نہیں بلکہ ان کو جدید ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک بنانے میں صرف آمرانہ طرز حکومت کا ہی عمل دخل رہا ہے اور تینوں ممالک کی مثالوں میں ایک ہی عنصر مشترکہ ہے وہ یہ کہ جاگیردارانہ نظام کو ووٹوں کے ذریعہ نہیں بلکہ بزور طاقت تہس نہس کردیا گیا تھا اور ان تینوں مثالوں میں فوج کا رول بھی ایک اہم عنصر تھا۔ ترکی میں انقلاب کے نقیب مصطفے کمال اترترک خود فوجی جنرل تھے اور ان کی مدد کیلئے فوج کے دوسرے اعلیٰ افسران بھی جن میں قابل ذکر عصمت اینونو ( جو مصطفے کمال کے بعد 1938 ) میں صدارت پر فائز ہوئے ) ان کی تائید و حمایت کی تھی۔
جاپان میں مابعد انقلاب ایک نئی قومی آرمی تشکیل دی گئی تھی یعنی میجی کی بحالی کے بعد جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیم یوز کو تحلیل کرکے تشکیل دی گئی تھی ، اور یہ نئی فوج بالکل جدید ذہن افراد پر مشتمل تھی جن کا مقصد ملک کو جدت کی طرف مائل کرکے ترقی یافتہ بنانا تھا۔
چین میں ریڈ آرمی تشکیل دی گئی جو کمیونسٹوں کی جانب سے ایک نئی قسم کی فوج تھی جس کی قیادت وہی افراد کررہے تھے جو سیاسی لیڈرز بھی تھے۔ اور ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان تینوں ممالک کے لیڈرز کی خصوصی یہ رہی تھی کہ نہ وہ نہ صرف ترقی پسند ذہن کے مالک تھے بلکہ محب وطن بھی تھے۔ اور اگر وہ اس طرح سے رویہ نہ اپناتے تو یہ ممالک آج ترقی پسند ممالک کی صف میں شمار نہیں ہوتے تھے۔
چنانچہ کوئی ایک مخصوص فوجی لیڈر ہی ملک کو ترقی یافتہ نہیں بناسکتا بلکہ اس میں دوسری خصوصیات بھی ضروری ہیں۔
اب تینوں ممالک کی مثالوں کے بعد میں اپنی توجہ اس جانب مرکوز کروں گا جس کا ذکر میرے پہلے پیرا گراف میں آیا تھا۔
آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ہندوستان اور اس کے پڑوسی ممالک آج اگر ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں تبدیل ہوجائے تو آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہاں کی عوام کا معیار زندگی کیا ہوتا اور افراد کس طرح اس سے مستفید ہوکر مزے لوٹتے۔

لہذا ہمارا اہم مقصد جاگیر دارانہ نظام چاہے وہ کوئی بھی نوعیت کا ہو بزور طاقت ختم کردینا ہے۔ چاہے وہ جاگیردارانہ ذہن ہو یا پھر جاگیر دارانہ رسم و رواج ہو سب کو تہس نہس کرنا ضروری ہے۔ آپ میرے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ہے کہ اس نظام کو کس طرح ختم کیا جائے لیکن مندرجہ بالا تینوں مثالوں کو سامنے رکھ کر اتنا کہہ سکتا ہوں کہ پارلیمان پارلیمانی طرز حکومت ہمارے ملک کی تغیر پذیری اور تیز تر ترقی میں مانع ہے اس کی وجہ مختلف اقسام کا جاگیردارانہ نظام جیسے پات اور فرقہ پرستی میں رائج ہیں۔
اب اگر ہم کو تیز تر ترقی کرنا ہو تو ایسے ترقی پسند محب وطن افراد کو تلاش کرنا ہے اور پارلیمانی جمہوریت کا متبادل بن سکیں اور یہ ذمہ داری ہر محب وطن شہری اور تاریخی فرض کے مانند ضروری ہے۔