ٹی آر ایس سربراہ کے قول و فعل میں تضاد

کریم نگر۔/19مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سینئر کانگریس قائد وی جگپتی راؤ نے کے سی آر کے طرز عمل پر سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے ریاست تلنگانہ کے قیام پر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کی بات تو کبھی کانگریس کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرنے کے بارے میں الکٹرانک چینلس اور اخبارات کو بیان دینے والے کے سی آر اب یہ کہہ رہے ہیں کہ نہ مفاہمت ہوگی اور نہ ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کیا جائے گا۔اس طرح انہوں نے اپنی بات اور بیان بدل دیا ہے۔جگپتی راؤ یہاں اپنے فنکشن ہال پشپانجلی میں الکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بات کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کا قیام کانگریس کی وجہ سے ہورہا ہے اگر کانگریس نہ ہوتی تو تلنگانہ کا قیام عمل میں نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ مسز سونیا گاندھی نے قابل تعریف تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ کی خواہش تلنگانہ ریاست کے قیام کے لئے مرکز پر دباؤ ڈالنے کیلئے سبھی نے ٹی آر ایس کو مستحکم کیا تھا لیکن تلنگانہ ریاست کے قیام کی عمل آوری کے ساتھ ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بھی تلنگانہ کے رہنے والے تلنگانہ کے خواہشمند تلنگانہ کی ترقی کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔

آج تک کوئی بھی حکومت کانگریس پارٹی کی طرح مثالی انقلابی عوام کی بہبود کے لئے شروع کردہ ترقیاتی اسکیمات پیش نہیں کرسکی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کانگریس پارٹی کے قائدین وکارکن متحد ہوکر آپسی اختلافات بھول کر کانگریس پارٹی کے امیدواروں کی تعداد میں کامیابی کے لئے کوشش کریں۔ کامیابی تو یقینی ہے لیکن بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی کے لئے کوشش کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا اقتدار کے حصول کا خواب دن کے خواب کی طرح رہنا چاہیئے۔اس موقع پر ایم ایل سی ٹی سنتوش کمار نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کی دیرینہ خواہش کے مطابق مسز سونیا گاندھی نے تلنگانہ ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ہم سبھی ان کے احسان مند ہیں ہم ان کی اس مہربانی اور احسان کا بدلہ اس چناؤ میں کانگریس کی کامیابی اور اسے اقتدار میں لانے کی کوشش ہوگی۔ سابق رکن اسمبلی دیویندر راؤ بھی اس موقع پر موجود تھے۔