پرتھ۔5مارچ( سیاست ڈاٹ کام ) متواتر 3فتوحات حاصل کرنے کے بعد ہندوستانی ٹیم ان کامیابیوں کے سلسلہ کو برقرار رکھنے کی کوشاں ہے جیسا کہ کل اس کا مقابلہ غیر یقنی لیکن خطرناک مظاہروں کیلئے مشہور ویسٹ انڈیز سے ہوگا جو کہ اس مقابلے میں دفاعی چمپئن ہندوستان کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں اپنی رسائی کو یقینی بنانے کی خواہاں ہے ۔ ہندوستانی ٹیم جس نے ورلڈ کپ کے افتتاحی مقابلے میں پاکستان پھر جنوبی افریقہ کے بعد نسبتاً کمزور متحدہ عرب امارات کے خلاف ایک آسان کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ ہندوستانی ٹیم امید کررہی ہے کہ میدان سے باہر ٹیم کے نائب کپتان ویراٹ کوہلی کے تنازعہ کا اثر میدان میں کھلاڑیوں کے مظاہروں پر نہیں پڑے گا ۔ ہندوستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز ورلڈ کپ میں سوائے 1992ء میں ویلنگٹن کے ہمیشہ ہی ہندوستانی ٹیٹ کے حق میں ہوئے ہیں کیونکہ ویسٹ انڈیز نے آخری مرتبہ 23برس قبل ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم کو شکست دی تھی ۔ کاغذات پر دونوں ٹیموں میں کوئی برابری نہیں ہے
جبکہ گذشتہ تین مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کے مظاہروں میں پیشہ وارانہ طرز رسائی کا فقدان رہا ہے ۔ ہندوستانی ٹیم کے ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں میں تقریباً سبھی نے رنز بنائے ہیں اور خاص کر اوپنر شکھر دھون جو کہ ورلڈ کپ سے قبل انتہائی ناقص فام کا شکار تھے ‘ وہ اچانک فام حاصل کرتے ہوئے شاندار مظاہروں کے علاوہ جنوبی افریقہ کے خلاف سنچری اسکور کی ہے جبکہ ویراٹ کوہلی بھی شاندار فام میں موجود ہیں نیز سریش رائنا نے پاکستان کے خلاف تیز رفتار نصف سنچری اسکور کی ہے ۔ روہت شرما جو ابتدائی مقابلوں میں ناکام رہے تھے انہوں نے یو اے ای کے خلاف گذشتہ مقابلے میں نصف سنچری اسکور کرلی ہے ۔
بولنگ شعبہ میں روی چندرن اشون ‘ محمد سمیع کے علاوہ موہت شرما ورلڈ کپ کیلئے حیران کن بولر ثابت ہوئے ۔ بولروں میں اشون نے 8وکٹوں کے حصول کے ذریعہ سب سے کامیاب بولر ثابت کرلیا ہے ۔ ویسٹ انڈیز کیلئے دھماکو اوپنر کریس گیل اہم کھلاڑی ہوں گے ‘ جن سے ٹیم انتظامیہ کو ایک بہتر شروعات کی امید ہے ۔ جہاں گیل ویسٹ انڈیز کیلئے اہم کھلاڑی ہیں وہیں بھونیشور کمار اور اشون کے خلاف ان کا ناقص مظاہرہ تشویش کا باعث بھی ہے ۔ گیل جنہوں نے کنبرا میں زمبابوے کے خلاف برق رفتار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ کپ کی پہلی ڈبل سنچری اسکور کی ہے تاہم اس کے بعد جب جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم 400 سے زائد رنز کے ہمالیائی اسکور کا تعاقب کررہی تھی اس موقع پر گیل ناکام ہوگئے ۔
گیل کے مظاہروں میں عدم استقلال سے ویسٹ انڈیز کو بسااوقات کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ہندوستان کے خلاف اہم مقابلے میں اشون اور بھونیشور کے خلاف گیل کا ناکام ہونا ویسٹ انڈیز کے مسائل میں اضافہ کی اہم وجہ بن سکتا ہے ۔ بھونیشور کمار کے علاوہ محمد سمیع بھی فٹ ہوکر ٹیم میں واپسی کیلئے تیار ہیں جن کی رفتار حریف بیٹسمینوں کیلئے مسائل پیدا کررہی ہے ۔ محمد سمیع کے فٹ ہوجانے کے بعد قطعی 11کھلاڑیوں کا انتخاب اہم ہوچکا ہے ۔ ویسٹ انڈیز کیلئے گیل کے علاوہ دوسرے اوپنر ڈیوین اسمتھ بھی ٹیم کی کامیابی میں اہم رول ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہوں نے آئی پی ایل میں دھونی کے ساتھ بھی مظاہرے کئے ہیں ۔ علاوہ ازیںمڈل آرڈر میںمارلیون سامئولس کے ہمراہ ڈیرن سمی ٹیم کیلئے تیز رفتار رنز بناسکتے ہیں ۔ نوجوان کپتان جیمس ہولڈر کیلئے بولنگ شعبے کے ناقص مظاہرے تشویش کا باعث ہیں ۔