نئی دہلی، 21 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) دس مرکزی جانچ ایجنسیوں کو کسی بھی کمپیوٹر کے ڈیٹا کی جانچ کا حق دینے سے متعلق وزارت داخلہ کے حکم پر اپوزیشن پارٹیوں نے اس کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نجی حقوق پر حملہ ہے ۔مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری راجیو گوبا نے جمعرات کو ہی قومی جانچ ایجنسی این آئی اے ، آئی بی اور سی بی آئی سمیت دس ایجنسیوں کو کمپیوٹر ڈیٹا کی جانچ اور فون ٹیپنگ کا حق دیا ہے ۔ حالانکہ انہیں اس کیلئے مرکزی داخلہ سکریٹری سے اجازت لینی ہوگی۔ راجیہ سبھا میں کانگریس لیڈر آنند شرما نے کہا ہے کہ حکومت کا یہ حکم بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور انفرادی آزادی کے حقوق پر حملے کرنے کی طرح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جمہوریت کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے رام گوپال ورما نے کہا کہ حکومت کا یہ حکم خطرناک ہے اور اس سے اس کے تاناشاہی رویہ کا احساس ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں شکست سے بوکھلائی بی جے پی حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر نے بی جے پی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز میں اس کی حکومت کے چند دن ہی ہیں اور وہ اپنے لئے گڑھا نہ کھودے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیڈر سیتا رام یچوری نے کہا ہے کہ حکومت ہر شخص کے ساتھ مجرمانہ رویہ اپنارہی ہے ۔ ہر شہری کی جاسوسی کرنے والا یہ حکم غیر قانونی ہے اور ٹیلی فون ٹیپ کرنے کے گائیڈ لائنس کے خلاف ہے ۔ وزارت داخلہ نے جن دیگر سات ایجنسیوں کو کمپیوٹر جانچ کی اجازت دی ہے ان میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، سنٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکس، کیبی نیٹ سکریٹریٹ، ڈائرکٹوریٹ آف سگنل انٹلی جنس، ریونیو انٹیلی جنس کے ڈائریکٹراور دہلی پولس کمشنر شامل ہیں۔