ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی اسکواڈ میں سہیل خاں کی شمولیت

کراچی ۔ 3 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی علاقہ کی پہاڑیوں سے پتھر پھینکنے، تیراکی کے ذریعہ دریاؤں اور نہروں کے ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ کو عبور کرنے والے ایک غیرمعروف و گمنام پیس بولر سہیل خاں نے ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت کے ذریعہ بالآخر ایک طویل سفر طئے کرلیا۔ ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی اسکواڈ میں 30 سالہ سہیل خاں کی حیرت انگیز شمولیت عمل میں آئی جبکہ اسکواڈ کے اعلان کے روز صبح تک بھی وہ امکانی پسندیدہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں تھے لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف خاں نے ورلڈ کپ اسکواڈ میں سہیل کی اچانک اور حیرت انگیز شمولیت کو ’’گیٹ کراش‘‘ (اچانک گھس پیٹ) قرار دیا اور کہا کہ سہیل نے گھریلو کرکٹ میں مسلسل متاثرکن مظاہرہ کے ذریعہ اپنی راہ ہموار کی ہے۔ سہیل کے شاندار مظاہرہ اور ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت کیلئے راشد لطیف کو کریڈٹ دیا جارہا ہے

کیونکہ انہوں نے ہی خام صلاحیتوں کے حامل اس قبائیلی نوجوان کو تربیت دیتے ہوئے اس کے کھیل کونکھارا ہے۔ سہیل خاں ابتداء میں راشد لطیف کی ٹیم پورٹ قاسم کیلئے کھیلا کرتے تھے۔ خاں نے گذشتہ سال گھریلو کرکٹ سیزن میں 64 وکٹس حاصل کیا تھا اور ایک ونڈے میچ میں وہ انتہائی غیرمعمولی متاثرکن مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹس حاصل کرچکے تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ارباب مجاز کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں فی الحال ان فٹ عمر گل کے بجائے شامل کرنے پرمجبور ہونا پڑآ لیکن تندرست و توانا سہیل خاں کیلئے یہ کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہیکہ سہیل خاں جو بچپن سے ہی اپنا نام کمانے کا خواب دیکھا کرتے تھے صوبہ خیبرپختون خواہ کے قبائیلی پہاڑی علاقہ مالاکھنڈ کی پہاڑیوں میں گھنٹوں بیٹھ کر تیز رفتار بولنگ کیلئے اپنے بازوؤں کو طاقتور بنانے کے مقصد سے دور دور تک پتھر پھینکا کرتے تھے۔ کرکٹ کی بنیادی سہولتوں سے محرومی کے سبب ابتداء میں وہ ٹینس بھی کھیلا کرتے تھے۔ سہیل خاں نے اے ایف پی سے کہا کہ ’’میں کرکٹ میں اپنا نام کمانے کی خواہش کے ساتھ بڑا ہوا ہوں‘‘۔ ’’ابتداء میں ہمیں کرکٹ کھیلنے کیلئے میدان یا جم جیسی کوئی سہولت نہیں تھی۔ چنانچہ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر میں دور دور تک پتھر پھینکتا رہوں تو میں فاسٹ بولنگ کیلئے اپنے بازوؤں کو طاقتور و توانابنا سکتا ہوں‘‘۔

علاوہ ازیں قبائیلی علاقہ کی دریاؤں، جھیلوں اور نہروں میں تیراکی سے بھی جسم مزید توانا ہوا ہے۔ سہیل خاں کو ان کے ایک رشتہ دار نے کراچی میں قسمت آزمانے کا مشورہ دیا تھا۔ وہ ہنر و صلاحیتوں کی تلاش کے ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے بھی دیکھے گئے لیکن بعد میں راشد لطیف کے محفوظ ہاتھوں میں پہنچ گئے جنہوں (راشد لطیف) نے اس باصلاحیت قبائیلی کی صلاحیتوں کو مزید نکھارتے ہوئے ان کا مؤثر و کامیاب مظاہرہ بھی کروایا۔ ورلڈ کپ اسکواڈ میں شمولیت کے ذریعہ سہیل نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ ان کا کہنا ہیکہ اس سفر میں کئی نشیب و فراز سے گذرے ہیں لیکن کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ سہیل خاں نے کہا کہ ’’میں اب ورلڈ کپ میں ہوں اور اچھا تاثر دینا چاہتا ہوں خواہ وہ (ہندوستان کے) ویراٹ کوہلی ہوں یا (آسٹریلیا کے) ڈیوڈ وارنر ہوں میں فاسٹ بولنگ کرنا اور میری ٹیم کے لئے وکٹس لینا چاہتا ہوں‘‘۔