وارناسی میں مودی کو کھلے مباحث کا کجریوال کا چیلنج

نئی دہلی 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی کے جلسہ عام کے سلسلہ میں تنازعہ پیدا ہونے کے دوران کیوں کہ اُنھیں الیکشن کمیشن نے وارناسی میں جلسہ عام کے انعقاد کی اجازت نہیں دی ہے، عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے آج بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو دعوت دی کہ وہ وارناسی میں اُن کے ساتھ کھلے مباحثے میں شرکت کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ کاشی کے لوگوں کو دونوں سے راست سوالات کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ مقام اور وقت کا انتخاب وہ مودی پر چھوڑتے ہیں۔ آج صبح اُنھوں نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ مودی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے گنگا آرتی پرارتھنا کی آڑ میں رونا چاہتے ہیں۔ مودی کو گنگا آرتی کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن آرتی اُتارنے سے زیادہ وہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے اور یہ انتہائی المناک ہے۔ اُنھوں نے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ وہ صرف آرتی کیوں نہیں اُتارتے، اِسے سیاسی رنگ کیوں دے رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس سلسلہ میں الیکشن کمیشن نے اجازت دے دی ہے۔ گنگا آرتی کو تنقید کا مرکزی موضوع بناتے ہوئے اُنھوں نے بی جے پی سے جاننا چاہا کہ مودی کو آج وارناسی میں اِس مذہبی رسم کی ادائیگی سے کس نے روکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ضروری سیاسی سرگرمیوں کی بھی اجازت دی تھی اور پوجا کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر آپ کو صرف آرتی اُتارنا اور پوجا کرنا ہے تو الیکشن کمیشن کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو الیکشن کمیشن کی اجازت صرف سیاسی سرگرمیوں کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ تنہا ایک دن گئے تھے اور آرتی اُتاری تھی کسی نے بھی اُنھیں نہیں روکا، وہ آج اپنی بیوی کے ساتھ دوبارہ آرتی اُتاریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ نیت صاف ہونی چاہئے۔ کجریوال نے نشاندہی کی کہ بی جے پی کے اعلیٰ قائدین وارناسی پہونچ چکے ہیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ یہ اُن کی پریشانی کی علامت ہے اور حسب مراتب نظام کا ایک حصہ ہے۔ کیا وہ مودی کو ناکامی سے بچاسکیں گے۔