وارانسی ۔ 7 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کل یہاں کا دورہ کرنے والے ہیں جس کی وجہ سے یہاں انتخابی بخار نے ایک نئی صورت اختیار کرلی ہے جہاں روٹی ، لڈو، غباروں، اینٹ اور چیاکٹس نے لے لی ہے ۔ ان تمام اشیاء پر اب بی جے پی ورکرس نے NaMo کا نقش بنوانے کا آرڈر دیا ہے ۔ لہذا ان تمام اشیاء کو تیار کرنے والوں کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں Namo کا نقش بنانے کیلئے علحدہ پیسے ملیں گے ۔ مودی کل یہاں دو ریالیوں سے خطاب کریں گے ۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ موصوف گنگا آرتی میں بھی شرکت کریں گے جو گنگا گھاٹ پر ہر شام کو کی جانے والی مذہبی رسم ہے ۔ مودی روحانیہ میں عوامی جلسہ سے خطاب کریں گے جو وارانسی کے نواحی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد شہر کی حدود میں واقع کثیر آبادی والے بنیا باغ میں انتخابی ریالی سے خطاب ان کے پروگرام میں شامل ہے ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ روحانیہ اور بنیا باغ دونوں ہی مقامات پر مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے اور جن کے ووٹس حاصل کرنے تمام پارٹیاں کوشاں ہیں جبکہ خود نریندر مودی نے قبل ازیں کہا تھا کہ جب وہ وارانسی کا دورہ کریں گے تو وہاں کے مسلمان بھی انہیںپسند کریں گے ۔ دریں اثناء یہاں کے کچھ دھابوں میں گاہکوں کیلئے تیار کی جانے والی روٹیوں پر بھی NaMo کا نقش بنایا گیا ہے حالانکہ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جب NaMo کے نقش والی روٹیاں کھانے سے گاہکوں نے انکار کردیا ۔ مغربی ممالک اور خصوصی طور پر امریکہ کے صدارتی الیکشن سے متاثر ہوتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے بھی اپنے انتخابی نشان جھاڑو کے ساتھ کئی ٹی شرٹس اور ٹوپیاں تیار کی ہیں جنہیں عوام میں تقسیم کیا جارہا ہے لیکن بی جے پی نے فی الحال تمام پارٹیوں کو اس معاملہ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے شہر میں کئی اشیاء NaMo کے نقش کے ساتھ فروخت کی جارہی ہے۔