نئی دہلی /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی کے لئے جیسے کو تیسا والے اقدام میں راہول گاندھی وارانسی میں کل روڈ شو منعقد کریں گے، جو اس پارلیمانی نشست کے لئے انتخابی مہم کا آخری روز ہے، جہاں سے بی جے پی کے وزارت عظمی امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وارانسی میں روڈشو سے متعلق فیصلہ اس وقت کیا گیا، جب مودی نے غیر تحریری ضابطہ کو توڑتے ہوئے راہول گاندھی کے لوک سبھا حلقہ امیٹھی میں 5 مئی کو ریلی منعقد کرکے گاندھی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ عمومی طورپر کوئی سرکردہ سیاسی لیڈر اعلی سطح پر حریف سیاسی قائد کے گڑھ میں مہم نہیں چلاتا تھا۔
راہول کی ریلی میں ہر ہر مودی کے نعرے
بی جے پی لیڈر صرف کارپوریٹ صنعت کاروں کے دوست‘ نائب صدر کانگریس کا الزام
دیوریا /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کی آج منعقدہ ریلی میں موجود چند افراد کے ایک گروپ نے نریندر مودی کی تائید میں نعرہ بازی کرتے ہوئے انھیں الجھن میں ڈال دیا۔ وہ اپنے خطاب کے دوران خواتین کو وظائف، غریب اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام کو مفت گھر اور مفت طبی امداد کی فراہمی کا وعدہ کر رہے تھے کہ وہاں موجود چند افراد نے ’’ہرہر مودی، گھر گھر مودی‘‘ کا نعرہ لگایا، تاہم وہاں موجود سیکورٹی اہلکاروں نے ان افراد کو اٹھالیا اور جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا۔ راہول گاندھی نے ریلی میں موجود ایک شخص سے وہاں کی اراضی کی قیمت دریافت کی، تاکہ گجرات میں ادانی گروپ کو دی گئی اراضی کا مسئلہ بیان کیا جائے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ گجرات میں آپ اپنی زمین ایک روپیہ فی میٹر فروخت کرسکتے ہیں، لیکن خرید نہیں سکتے اور اگر آپ ایک روپیہ فی میٹر اراضی خریدنے کی بات کریں گے تو آپ کو طمانچہ رسید کرتے ہوئے اس ریاست (گجرات) سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔
راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی لیڈر نریندر مودی اگر وزیر اعظم بنیں گے تو اس سے صرف ان (مودی) کے صنعت کار دوستوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ مودی نے اپنے ایک صنعت کار دوست ادانی کو ایک روپیہ فی میٹر کی قیمت پر 43 ہزار ایکڑ اراضی فراہم کی ہے اور 26 ہزار کروڑ روپئے مالیتی برقی مفت فراہم کی گئی ہے۔ راہول گاندھی نے وعدہ کیا کہ اگر کانگریس برسر اقتدار آئے گی تو غریبوں کے مفت علاج، سرجری، گھروں کی مفت فراہمی اور خواتین کے لئے وظائف کو یقینی بنائے گی۔
راہول نے بادی النظر میں ضابطہ کی خلاف ورزی کی
نئی دہلی /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ بادی النظر میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی، الیکشن کمیشن نے آج کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی کہ انھوں نے اپنے مبینہ ریمارکس میں دعویٰ کیا کہ اگر بی جے پی برسر اقتدار آئے تو 22 ہزار افراد تشدد میں ہلاک ہو جائیں گے۔ کمیشن نے ان سے 12 مئی کی صبح تک نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کے ساتھ کہا ہے کہ اگر وہ دوشنبہ کو گیارہ بجے دن تک اپنا مدعا پیش نہیں کرتے ہیں تو انتخابی پینل مزید نوٹس کے بغیر ضروری کارروائی کرے گا۔ اس دوران بی جے پی کی تنقید کے درمیان کمیشن نے ان حقائق کا پتہ چلانے کا حکم دیا ہے کہ آیا راہول گاندھی نے چہار شنبہ کو اپنے حلقہ امیٹھی میں رائے دہی کے دوران پولنگ بوتھس کے ای وی ایم ایریا میں داخل ہوکر انتخابی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔