نیمار پر برازیل میں بھی دھوکہ دہی کے الزامات

برازیلی اسٹار کے والد کی بھی عدالت میں پیشی
ریوڈی جنیرو ؍ میڈریڈ ۔ 3 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام)برازیل میں استغاثہ نے نیشنل فٹبال ٹیم کے رکن نیمار اور ان کے والد کے خلاف ٹیکس بچانے اور دھوکہ دہی کے معاملات میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اسپینی فٹبال کلب بارسلونا میں اپنی منتقلی کے حوالے سے نیمار کی فراڈ کے ہی الزامات کے تحت اسپین کی ایک عدالت میں پیشی کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ برازیلی حکام نے نیمار کے چار کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے اثاثے بھی منجمد کر دیے ہیں ۔ تاہم نیمار اور ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی دھوکہ دہی نہیں کی۔ برازیلی حکام نے نیمار پر یہ الزام لگایا ہے کہ انھوں نے ٹیکس بچانے کیلئے کئی فرضی کمپنیوں کا استعمال کیا۔ حکام کے مطابق نیمار کے خلاف ٹیکس بچانے اور دھوکہ دہی کے الزامات 2006ء سے 2013ء کے درمیان کے ہیں اور یہ اسپین میں ان کے خلاف جاری مقدمے سے مختلف ہیں۔ اسپین میں استغاثہ کا موقف ہے کہ نیمار، ان کے خاندان اور بارسلونا فٹبال کلب نے گذشتہ ستمبر میں برازیلی کلب سینٹوس سے ان کی اسپینی کلب کو منتقلی کے سلسلے میں دی جانے والی اصل رقم ظاہر نہیں کی۔ بارسلونا کا کہنا ہے کہ اس نے 2013ء میں نیمار کو پانچ کروڑ 71 لاکھ یورو ادا کئے تھے جس میں چار کروڑ یورو اُن کے والدین جبکہ 71 لاکھ یورو برازیلی کلب سینٹوس نے وصول کیے تھے۔ تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بارسلونا نے نیمار کو پانچ کروڑ 71 لاکھ یورو نہیں بلکہ آٹھ کروڑ، 30 لاکھ یورو ادا کیے تھے اور بارسلونا کلب نے اس معاہدے کے کچھ حصے کو پوشیدہ رکھا تھا۔ نیمار منگل کو اسپینی عدالت میں جج کے سامنے دیڑھ گھنٹہ اپنے والد کے ساتھ پیش ہوئے ،جو اُن کے ایجنٹ بھی ہیں۔ برازیل میں سرمایہ کاری کی ایک فرم ڈی آئی ایس اس مقدمے کو سامنے لائی ہے۔ ڈی آئی ایس کے پاس برازیل کے کھلاڑیوں کی ٹرانسفر کے 40 فیصد حقوق ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اسے دھوکہ دہی سے لاکھوں یورو کا نقصان پہنچایا گیا۔