نوجوان نسل ، ملک و ملت کا قیمتی سرمایہ

اوٹکور /20 نومبر ( راست ) نوجوان نسل ملک و ملت کا ایک قیمتی سرمایہ اور مستقبل کا درخشندہ ستارہ ہوتے ہیں ۔ قوم کی ساری امیدیں انہیں سے وابستہ ہوتی ہیں ۔ دنیا کی ہر تحریک نوجوان ہی کی جدوجہد سے کامیاب ہوتی ہے ۔ نوجوانوں میں پہاڑوں کو ہلانے اور دریاؤں کے رخ موڑ دینے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ اگر ہم قرآن اور اپنی اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کی متعدد مثالیں ہمیں مل سکتی ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں ۔ عین نوجوانی کے عالم میں بت خانے کے بتوں کو توڑ دیتے ہیں ۔ لوگوں کو معلوم ہوا تو کہنے لگے ہم نے ایک نوجوان کے بارے میں سنا ہے اسی نے ایسا کیا ہوگا ؟ حضرت موسی علیہ اسلام نے جب ایک قطبی کو ایک طمانچہ رسید کیا ۔ جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوگئی ۔ یہ آپ کے عین جوانی و شباب کا وقت تھا ۔ اپنے ملک کے ظالم بادشاہ کے ظلم سے بچنے اور اپنے ایمان و عمل کی حفاظت کیلئے غار میں پناہ لینے والے اصحاب کہف نوجوانوں ہی کا ایک گروپ تھا ۔ حضرت یوسف نے نوجوانی ہی کی عمر میں دعوت گناہ کو ٹھکرایا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے عین نوجوانی ہی میں آسمان پر اٹھالئے گئے ۔ جہاد میں نوجوان ہی بھرتی کئے جاتے ہیں ۔ طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، عبدالرحمن اول ، احمد شاہ ابدالی ، شہاب الدین غوری یہ سب نوجوان ہی تھے جنہوں نے قرآن و سنت کی بالادستی اور اقتدار اعلی کے حصول کیلئے اپنا تن من دھن قربان کردیا تھا ۔ ان خیالات کا اظہار مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی ( استاذ جامعہ دارالہدی) نے موضع اوٹکور میں منعقدہ SIO کے ایک اجلاس عام خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا نے کہا کہ آج نوجوانوں میں انعلاقبی اور تحریکی و تعمیری کاموں کے بجائے ۔ فیشن پرستی ، بے حیائی ، دوسروں کی نقالی ، خودکشی ، منشیات کا استعمال ، لہو و لعب ، مغڑبی کلچر وغیرہ کا رحجان بڑھتا جارہا ہے ۔ مولانا نے کہا کہ یہ عام نوجوانوں کا کام تو ہوسکتا ہے لیکن مسلم نوجوان کا شیوہ نہیں ہوسکتا ۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ اے امت مسلمہ کے نوجوانوں وقت تمہارا منتظر ہے ۔ اٹھو اور اپنے مثالی کارناموں سے ملت اسلامیہ کی ایک نئی تاریخ رقم کرو ، اس جلسہ سے مولانا مفتی طیب عبدالسلام قاسم ( استاذ جامعہ دارالہدی) نے مخآطب کیا اور مسلمانوں کو درپیش چیلنجس کا مقابلہ کرنے اور دعوت کے میادن میں سرگرم رول ادا کرنے پر زور دیا ۔ قبل ازیں محترمہ جناب کاظم صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور مفتی عبدالفتاح عادل کی دعاء پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا ۔