نواز شریف اور مریم کا سزاء کے خلاف اپیلوں کا ادخال

تین ملزمین کے وکلاء کی جانب سے سات علحدہ علحدہ درخواستیں

اسلام آباد ۔ 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف جو اس وقت جیل میں ہیں، انہوں نے اپنی بیٹی مریم اور داماد صفدر کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بدعنوانی معاملات میں انہیں ملوث بتاتے ہوئے سزائے قید کے خلاف علحدہ علحدہ اپیل داخل کی اور انہیں ضمانت پر رہا کئے جانے کی درخواست کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 68 سالہ نواز شریف اور 44 سالہ مریم کو جمعہ کے روز لندن سے لاہور آنے کے بعد ایرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا تھا کیونکہ احتسابی عدالت نے انہیں لندن میں غیرقانونی طور پر چار انتہائی اعلیٰ درجہ کے فلیٹس خریدنے کا مرتکب پایا تھا۔ تینوں ملزمین کے وکلاء نے سات علحدہ اپیلیں داخل کی ہیں جن میں سے تین نواز شریف کی جانب سے اور فی کس دو اپیلیں مریم اور صفدر کی جانب سے داخل کی گئی ہیں جس میں اسلام آباد اکاونٹیبلیٹی کورٹ کی جانب سے ایونفیلڈ فیصلہ میں قانونی خامیوں کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اپیل میں تینوں ملزمین کو ضمانت پر رہا کئے جانے کی درخواست بھی کی گئی ہے جبکہ ایک دیگر اپیل میں یہ خواہش کی گئی ہیکہ بدعنوانیوں کے مابقی دو معاملات کی سماعت اڈیالا جیل میں ہی منعقد کی جائے۔ البتہ اب تک یہ بات سامنے نہیں آئی ہیکہ ان اپیلوںکی سماعت کب کی جائے گی۔ اسلام آباد اکاونٹیبلیٹی کورٹ نے نواز شریف کو مجموعی طور پر دس سال کی سزائے قید اور 8 ملین پاؤنڈس کا جرمانہ عائد کیا ہے جبکہ ان کی بیٹی مریم کو سات سال کی سزائے قید اور دو ملین پاؤنڈس کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جہاں تک نواز شریف کے داماد صفدر کا تعلق ہے تو انہیں صرف ایک سال کی سزائے قید سنائی گئی ہے اور ان پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا گیا ہے۔ دریں اثناء مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایونفیلڈ کیس میں احتسابی عدالت کا فیصلہ قانونی تقاضوں کی تکمیل نہیں کرتا لہٰذا اس فیصلہ کو کالعدم قرار دینا ہی انصاف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کیس انتہائی مستحکم ہے اور ہمیں عدالت سے پوری امید ہیکہ وہ ہمیں کچھ نہ کچھ راحت ضرور فراہم کرے گی جبکہ مریم نواز کی اپیل عدالت کے کام کرنے کے اوقات کے دوران داخل نہیں کی جاسکی۔ عدالت نے بدعنوانیوں کے تمام تینوں معاملات میں سے ایک ایونفیلڈ کیس میں 6 جولائی کو اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ نواز شریف اور ان کے بیٹے حسن اور حسین کو بدعنوانیوں کے تینوں ہی معاملہ میں قصوروار پایا گیا تھا جبکہ مریم اور صفدر کو صرف ایونفیلڈ کیس میں ملوث پایا گیا تھا۔