نفرت پر مشتمل تقریر کا معاملہ۔ سپریم کورٹ نے مجسٹریٹ سے کہاکہ وہ یوگی ادتیہ ناتھ کے معاملوں میں احکامات سنائے۔

سپریم کورٹ نے گورکھپور عدالت کے مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ فسادات کے ان تمام واقعات جس میں چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ ملوث ہیں کہ متعلق قانون کے تحت احکامات جاری کرے۔

نئی دہلی۔یہ معاملہ گورکھپور میں 27جنوری 2007پر مشتمل واقعہ ہے جس میں تشدد اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کے واقعات پیش ائے تھے‘ اس وقت ادتیہ ناتھ رکن پارلیمنٹ تھے۔نفرت پر مشتمل تقریر کا معاملہ‘ سال2007کے مذکور کیس پر منگل کے روز سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس ارڈرکو روک لگادی جس میں عدالت نے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کو راحت دی تھی‘ جو مبینہ طور پر اس کیس میں ملوث ہیں۔

سپریم کورٹ نے گورکھپور عدالت کے مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ فسادات کے ان تمام واقعات جس میں چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ ملوث ہیں کہ متعلق قانون کے تحت احکامات جاری کرے۔

تین ججوں کی بنچ جس میں چیف جسٹس دیپک مشرا‘ اور جسٹس اے ایم کھانوالکر اور ڈی وائی چندرچوڑ موجود تھے نے کہاکہ’’ ہم صرف مجسٹریٹ( گورکھپور میں) کو صرف ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ اس ضمن میں قانون کی بالادستی کو پیش نظر رکھتے ہوئے مناسب احکامات کی اجرائی عمل میں لائے‘‘۔ جنوری2007میں گورکھپور میں پیش ائے اس کیس میں تشدد اور مارپیٹ ہوئی تھی۔

واقعہ کے فوری بعد پولیس نے فساد برپا کرنے ‘ اکسانے اور مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

جون2007میں پولیس نے تمام ملاز.مین کے خلاف تحقیقات کے بعد چارج شیٹ داخل کی اور چیف جوڈیثرل مجسٹریٹ نے اس حتمی رپورٹ پر سنجیدگی ظاہر کی۔

بعدازاں2017میں اس کو گورکھپور سیشن جج کے سامنے چیالنج کیاگیا ‘ جنھوں نے کیس میں کریمنل نظر ثانی کے لئے منظوری دیدی۔تاہم سیشن کورٹ معاملہ ٹرائیل کورٹ کے سپرد کیااور مجسٹریٹ کوہدایت دی کے تازہ احکامات جاری کریں۔

سیشن کورٹ کے اس حکمنامہ کو بھی الہ آباد ہائی کورٹ میں چیالنج کیاگیا ‘ جہاں پر مداخلت کو غیر ضروری قراردیتے ہوئے روک لگادی گئی تھی۔

Leave a Comment