نعش غیر متعلقہ خاندان کے حوالہ کرنے کا الزام

حیدرآباد۔/10ڈسمبر، ( سیاست نیوز) عثمانیہ ہاسپٹل میں نعشوں کی شناخت کے معاملہ میں عملے اور پولیس پر لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے برہم عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عنبر پیٹ کے علاقہ قادری باغ سے تعلق رکھنے والے 55سالہ محمد رفیق یکم ڈسمبر سے لاپتہ تھے۔ وہ آر ٹی سی کے وظیفہ یاب ہیں۔ ان کی گمشدگی کی اطلاع عنبر پیٹ پولیس میں دی گئی اور 3ڈسمبر کو ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ محمد رفیق کے رشتہ داروں نے یہ دعویٰ کیا کہ پولیس کو مطلع کرنے کے باوجود محمد رفیق کی نعش بہادر پورہ کشن باغ علاقہ کے ایک خاندان کے حوالے کی گئی جنہوں نے اسلامی طریقہ سے ان کی تجہیز و تکفین بھی کردی۔ دراصل بہادر پورہ کے ساکن ارشد نے اپنے والد کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی اور حکام نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمد رفیق کی نعش ان کے حوالے کردی۔ محمد رفیق کے رشتہ داروں نے آج عثمانیہ ہاسپٹل کے مردہ خانہ اسٹاف اور پولیس افضل گنج کی لاپرواہی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ بعد ازاں افضل گنج پولیس نے نعش کا ڈی این اے کرانے کا فیصلہ کیا اور بتایا کہ دو یا تین دن میں نعش کو قبر سے نکال کر ڈی این اے کرایا جائے گا۔ انسپکٹر افضل گنج مسٹر انجیا نے بتایا کہ ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہی حقیقت واضح ہوسکتی ہے۔