نئی دہلی ۔ 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت، کارپوریٹ اداروں کی حد سے زیادہ خدمت میں مصروف ہے۔ سی پی آئی نے آج کسان دشمن تحویل اراضی بل سے فی الفور دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ پارٹی قائدین اور کارکنوں نے مرکز سے یہ مطالبہ کیا کہ کسانوں کو اپنی مرضی سے اراضی فروخت کرنے کا اختیار دیا جائے اور زبردستی زرعی اراضیات چھین لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ سی پی آئی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے آج یہاں ایک ریالی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے 2013ء حصول اراضی قانون میں ترمیم کیلئے ایک بل پیش کیا جو کہ کسانوں کے مفادات پر ضرب کاری ہے۔
ستم ظریفی یہ ہیکہ نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے تمام حدود کو پار کر گئی ہے۔ انہوں نے تحویل اراضی بل سے فی الفور دستبرداری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ 1991ء میں معاشی اصلاحات کے نتائج 7 کروڑ ایکڑ زرعی اراضیات سے محرومی کی شکل میں برآمد ہوئی تھی اور اس وقت ملک بھر میں غذائی اجناس کی پیداوار کا بحران پیدا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے پاس موجود اراضیات پر صنعتیں قائم کرے نہ کہ کسانوں سے زرعی زمینات چھین لے تاکہ غذائی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔ سی پی آئی لیڈر نے کہا کہ ہم، صنعتوں کے خلاف نہیں، چونکہ صنعتوں کیلئے اراضیات کی ضرورت ہے جس سے ہم اتفاق کرتے ہیں لیکن 1040 کروڑ ایکڑ اراضیات حکومت اور عوامی شعبہ کے ادروں کے کنٹرول میں ہیں۔ جس میں 3 کروڑ ایکڑ اراضی خالی پڑی ہوئی ہیں
اور یہ بیکار اراضیات صنعتکاروں کو دی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوک سبھا میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہونے کے باعث تحویل اراضی بل منظور کرلیا گیا لیکن راجیہ سبھا میں نامنظوری کے اندیشہ سے یہ بل 30 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے رجوع کیا گیا چونکہ کمیٹی میں سی پی ایم کے واحد رکن سلیم کو شامل کیا گیا ہے اور اراکان کی اکثریت بی جے پی سے وابستہ ہے اور ہم جانتے ہیکہ کمیٹی رپورٹ کس نوعیت کی ہوگی۔ لہٰذا ہمارا یہ اصرار ہیکہ بل سے دستبرداری اختیار کرلی جائے۔ نئی دہلی میں جنترمنتر کے قریب پارلیمنٹ اسٹریٹ پر منعقدہ ریالی سے سی پی آئی سکریٹریز اتل کمار انجان، امرجیت کور، رکن قومی مجلسی عاملہ شریمتی انینی راجہ اور دیگر نے مخاطب کیا جبکہ احتجاجی مظاہرہ میں دہلی کے علاوہ اترپردیش، ہریانہ اور راجستھان کے کسانوں نے حصہ لیا۔