نئی دہلی۔ 15؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ سُمترا مہاجن کو ایک نرم گو اور منکسرالمزاج شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں سبھی ’’تائی‘‘ (بڑی بہن) مخاطب کرتے ہیں، لیکن نئے لوک سبھا اسپیکر کی حیثیت سے ایوان میں نظم و ضبط کی برقراری اور احتجاجی ارکان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے واقف نہیں ہیں۔ گزشتہ ہفتہ متفقہ طور پر منتخب ہونے والی میرا کمار کے بعد دوسری خاتون اسپیکر 71 سالہ سمترا مہاجن نے کہا کہ وہ ارکان کے ساتھ فطری مذاکرات پر توجہ دیں گی، لیکن وہ ایوان کے مفاد میں سخت فیصلے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔ جب کبھی ضرورت ہوگی، تو وہ سخت فیصلے کریں گی۔ آٹھ مرتبہ رکن پارلیمان رہنے والی سمترا مہاجن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ایوان میں نظم و ضبط کی برقراری کیلئے ہر ممکنہ کوشش کریں گی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا وہ ارکان پارلیمان کے ایک چھوٹے سے گروپ کی جانب سے بار بار خلل پیدا کرنے کی صورت میں کیا اقدام کریں گی، انہوں نے کہا کہ ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔
گزشتہ لوک سبھا میں رونما ہونے والے واقعات کی جانب سمترا مہاجن کی توجہ مبذول کروائی گئی کہ پیپر اِسپرے واقعہ کے بشمول ارکان کا رویہ اور خلل اندازی کے کئی واقعات رونما ہوئے تھے۔ ان کے دور میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہو تو وہ کیا کریں گی، انہوں نے کہا کہ وہ ایسے ارکان کے ساتھ فطری مذاکرات کو ترجیح دیں گی۔ سرکاری بینچوں اور اپوزیشن کے درمیان رابطہ کاری کو فروغ دیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے گروپس کو بھی اعتماد میں لیں گی تاکہ ایوان کی کارروائی پرسکون انداز میں چلائی جاسکے۔ قانون سازوں اور پارلیمنٹیرینس کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے فرائض کو سمجھیں۔ ملک میں جمہوریت پائی جاتی ہے، اسی سے طاقت در طاقت پیدا ہوگی۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کی توقعات کو پورا کریں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا وہ نظم و ضبط کی برقراری کو یقینی بنانے ارکان پارلیمنٹ کے گڑبڑ والے رویے کو درست کرنے کے لئے کوئی ضابطہ یا قانون بنائیں گی، سمترا مہاجن نے کہا کہ دراصل اگر ضروری ہوا تو قوانین کو وضع کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ ارکان پارلیمان اور قائدین کو ان کی ذمہ داریوں کی جانب توجہ مبذول کرائیں گی۔