ناندیڑ میں چوہے کی انسان دوستی سے عوام حیرت زدہ

ناندیڑ۔20اپریل(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی جانور ہے ۔ انسان کو زندگی گزارنے کیلئے کسی نہ کسی کی ضروت ضرور پڑتی ہے۔ انسان اس طرح کئی جانوروں کو شوق سے پالتا بھی ہے جیسے کُتا ، بلی ّ ، مرغیاں و دیگر پالتو جانور ۔ ایسے پالتو جانوروں کو پالنے والے افراد کی تعداد بھی کثیر ہے۔ لیکن ان جانوروں میں ’’سفید رنگ کے چوہے پالنا کسی بھی شخص کیلئے آسان نہیں ۔ چوہے جیسا ننھا جانور تمام جانوروں میں سب سے کمزور دل اور ڈرنے والا جانور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کچھ کھانے کی غرض سے وہ گھروں کے دیواروں میں بنائیں اپنے بل سے باہر نکالتا ہے۔ لیکن انسانوں کی ذرا سی آہٹ سنتے ہی خوف و گھبراہٹ کے مارے فوراً اپنے بل میں چلا جاتا ہے۔ اتنا گھبرانے والا ننھے جانور کو پالنا یہ انسان کیلئے اتنا آسان نہیں ۔ لیکن ناندیڑ شہر کے تہرا نگر علاقہ میں رہاش پذیر ایک 40سالہ سیتا رام کامبڑے نامی شخص نے ایک سفید رنگ کے ننھے چوہے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرکے ناممکن بات کو ممکن بنا دیا ہے۔ سیتارام نے اس سفید رنگ کے چوہے کا نام پلورکھا ہے۔اس شخص نے پچھلے آٹھ ماہ سے اس ننھے چوہے کے ساتھ گہری دوستی بنائی ہوئی ہے۔ سیتا رام کامبڑے نے اس سفید رنگ کے چوہے کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب بھی مجھے فرصت کے لمحات ملتے ہیں میں اس ننھے چوہے کو اپنے کاندھے اور ہاتھ پر سوار کردیتا ہوں ۔ یہ چوہا بڑے مزے سے میرے جسم پر چڑھ کر ادھر سے اُدھر پھرتا رہتا ہے۔اس شخص نے مزید کہا کہ اس ننھے سفید رنگ کے چوہے کو آٹھ ماہ قبل اس کے ایک دوست نے اسے دیا تھا تب سے یہ سفید رنگ کا چوہا سیتا رام کامبڑے کے مکان میں ایک فیملی ممبر کی حیثیت سے رہتا ہے۔ جب بھی ہمارے گھر میں کوئی نیا شخص داخل ہوتا ہے اس ننھے چوہے کو معلوم ہوجاتا ہے اور وہ ڈر کے کہیں چھپ جاتا ہے۔ اس ننھے چوہے کو کھانے میں چوڑوا اور انواع اقسام کے پھل پسند ہیں ۔ سیتارام کے خاندان والے اس ننھے چوہے کو اپنے خاندان کا ایک ممبر تصور کرتے ہیں۔ سیتا رام کامبڑے کی بیوی اشونی کامبڑے ہر دو دن میں اس ننھے سفید رنگ کے چوہے کو نہلاتی ہے لیکن چوہے کو نہانا پسند نہیں ۔ نہانے کے بعد جیسے ہی چوہے کا جسم سوکھ جاتا ہے وہ چوہا پھر سے سیتارام کے ہاتھ اور کاندھے پر ادھر سے اُدھر پھدکنا شروع کردیتا ہے۔ سیتارام کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد وہ چوہا ان ہی کے بستر پر سوجاتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں ایک طرف رشتے ناطے لوگوں کے درمیان میں برائے نام ہی نظر آتے ہیں وہیں سیتارام کامبڑے نے سفید رنگ کے ننھے چوہے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرکے ناندیڑ شہر میں ’’عجب پریم کی غضب کہانی ‘‘انسان اور جانوروں کے درمیان میں ثابت کردکھائی ہے۔