نارنجہ پراجکٹ میں مجوزہ تبدیلی کی مخالفت

ظہیرآباد ۔ 31 ۔ جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کانگریس کے سرکردہ قائدین کی جانب سے یہاں منڈل پرجاپریشد میٹنگ ہال میں طلب کردہ پریس کانفرنس کے موقع پر کانگریس کے زیراقتدار حکومت میں گزشتہ سال منظورہ نارنجہ تالاب پراجکٹ کو جوں کا توں برقرار کھنے کا مطالبہ کیا گیا اور نئی تلنگانہ ریاست کی حکومت کو اس میں کسی قسم کی تبدیلی کے خلاف زبردست احتجاج منظم کرنے کا نتباہ دیا گیا ۔ پریس کانفرنس میں ظہیرآباد صدر منڈل پرجا پریشد چرنجیوی پرشاد ، کوہیر ، جھرہ سنگم ، نیالکل ، اور ظہیرآباد منڈلوں کے پارٹی صدور اروند ریڈی ، بسنت پور سرینواس ریڈی ، ہنمنت راؤ پاٹل ، دھنا سری سرینواس ریڈی اور سابق سرپنچ ، بچی ریڈی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سابق ریاستی وزیر بھاری مصنوعات و موجودہ رکن اسمبلی ظہیرآباد ڈاکٹر جے گیتا ریڈی نے ظہیرآباد کے 6 مواضعات بڑوی پاو ، بچنلی ، ستوار ، چراغ پلی ، ماڑگی ، کتور اور نیالکل منڈل کے 2 مواضعات مرنا پور بنگلہ اور ملکاپور کی زرعی اراضیات کو نارنجہ تالاب سے سربراہی آب کیلئے کنالوں کی تعمیر کے سلسلہ میں 5.7 کروڑ روپئے کی رقمی منظوری اس وقت کی متحدہ آندھراپردیش حکومت سے دلوائی تھی اور اس ضمن میں ٹنڈرس بھی طلب کرلئے گئے تھے لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ گزشتہ سال منظورہ نارنجہ تالاب پراجکٹ میں ریاست تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت تبدیلی کرنے کی خواہاں ہے جو کسی صورت میں بھی مذکورہ مواضعات کے کسانوں کیلئے قابل قبول نہ ہوگی ۔ ان قائدین نے منظورہ نارنجہ تالاب پراجکٹ میں کی جارہی تبدیلیوں سے ایک یادداشت ریاستی وزیر بھاری آبپاشی ٹی ہریش راؤ کو 26جولائی کو ان کے دورہ ظہیرآباد کے موقع پر حوالے کئے جانے کا بھی تذکرہ کیا ۔ ان قائدین نے پھر ایک بار گزشتہ سال منظورہ پراجکٹ کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ۔اس موقع پر دیگر قائدین کنڈیم نرسملو ، محمد مبین احمد ، منکال سبھاش کے بشمول کانگریس کے اراکین منڈل پریشد اور سرپنچ موجود تھے ۔

Leave a Comment