میونسپل کارپوریشن چتور پر تلگودیشم کا جھنڈا

مدن پلی /13 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بلدیہ انتخابات میں ضلع چتور میں میونسپالٹیوں میں تلگودیشم کے حق میں 3 اور وائی ایس آر کاگنریس کے حق میں تین میونسپالٹی گئے ۔ چتور کارپوریشن پر تلگودیشم کا جھنڈا لہرایا جائیگا ۔ کارپوریشن کے 50 ڈیویژنوں میں 33 ڈیویژن پر ٹی ڈی پی کامیاب ہوئی ۔ سابق ایم ایل اے سی کے بابو اپنا الگ پیانل آزاد امیدواروں کا بناکر میدان میں رہے لیکن کوئی فائدہ مند ثابت نہ ہوسکا ۔ ضلع چتور میں وائی ایس آر کے مداحوں کی بھاری اکثریت کے باوجود تلگودیشم کی کامیابی کو وائی ایس آر پارٹی ہضم نہ کرپارہی ہے ۔ سابق وزیر پدی ریڈی رام چندرا ریڈی جو پارٹی کے ضلع چتور کے ذمہ دار ہیں انہیں پنگنور میونسپالٹی میں وائی ایس آر کانگریس کو کامیاب کرانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی ۔ مگر مدن پلی میں امیدواروں کے انتخابات میں ہوئی غلطیوں کی سزا بھگتنی پڑی ۔ مدن پلی میں تلگودیشم میں اسمبلی امیدوار کے انتخاب کے تعلق سے انتشار کے باوجود تلگودیشم قائدین نے 15 وارڈوں میں اپنے امیدواروں کو کامیابی کرایا ۔ جبکہ وائی ایس آر کانگریس کی مقبولیت کے اور محفوظ قلعہ رہنے کے باوجود صرف 17 وارڈوں میں کامیابی حاصل کی ۔ مدن پلی سے 9 وارڈوں میں مسلم امیدوار نے اپنی قسمت آزمائی کی اور 8 وارڈوں میں کامیابی حاصل کی ۔ ایک اور حاصیت یہ رہی کہ مسلم امیدواروں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ 35 وارڈوں میں محتمرہ فرزانہ 1014 ووٹوں کی اکثریت سے شہرمیں پہلا مقام حاصل کیا ہے ۔ محترمہ شیم اسلم سابق بلدیہ چیرپرسن 954 کی اکثریت سے دوسرے مقام پر محمد رفیع 598 سے چوتھے مقام پر بی اے خواجہ 579 سے پانچویں مقام پر محترمہ عصمت جان 503 ووٹوں کی اکثریت سے چھٹویں مقام پر مختار باشاہ 500 ووٹوں سے ساتویں مقام پر مدن پلی چیرپرسن کے عہدہ کیلئے محترمہ شمیم اسلم کے نام کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سابق بلدیہ چیرپرسن مجیب حسین دو وارڈوں میں آماد امیدوار کی حیثیت سے اپنی قسم آزمائی مگر دونوں جگہ شکست پائی ۔ رکن ا سمبلی شاہ جہاں باشاہ علحدگی اختیار رکے کاگنریس پارٹی سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے ۔ چند وارڈوں میں اپنے حامیوں کو آماد طور پر کھڑا کئے مگر کوئی بھی کامیابی حاصل نہ کرپائے ۔ تلنگانہ کے قیام کیلئے آندھراپردیش کی تقسیم کے فیصلے کی ناراضگی کانگریس پارٹی کو لے ڈوبی ہے ۔ ووٹروں نے کہیں بھی کانگریس کے امیدواروں کو کامیابی نہیں دی ۔ صرف کالاہستی میں چار امیدوارو ںنے کامیابی حاصل کی ۔ مگر ضلع میں کہیں بھی کانگریس کا نام و نشان نہ رہا ۔ مدن پلی میں آزاد امیدواروں کے ساتھ بلدیہ کی چیرسرسن کی قسمت ہے ۔ تین آزاد امیدواروں میں ایک تلگودیشم کے باغی امیدوار دوسرے جئے سمکھا ندرا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ہیں اور تیسرے بھی اس سے قبل تلگودیشم سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔ ابھی سے یہ تینوں کو راغب کرنے کی کوشش شروع کی گئی ہے ۔ دیکھنا ہے کہ مدن پلی بلدیہ جس کا یہ ریکارڈ رہا ہے کہ اس کا قائم ہونے سے لیکر کل تک کانگریس کے قبضہ میں رہا ہے اور اب کسی کے جھولی میں پڑے گا اگر وائی ایس آر کانگریس ان آزاد امیدواروں کو اپنے طرف کرنے میں کامیاب ہوئی تو چیرپرسن کے عہدہ پر شمیم اسلم کو موقع دیا جائے گا ۔ اگر تلگودیشم آزاد امیدواروں کی حمایت حاصل کرلی تو بی سی طبقہ کے کے شیوا پرساد کا نام کا اعلان پہلے ہی ہوچکا ہے ۔ ان کو موقع دیا جائے گا ۔ چونکہ مدن پلی بلدیہ بی سی جنرل کیلئے Reserve کی گئی ہے ۔ اس لئے یہاں سے بی سی طبقہ یا جسلم طبقہ کا ہی چیرمین ہوگا ۔ وائی ایس آر کانگریس کو مسلم اقلیت نے بھاری اکثریت سے کامیاب کیا ہے ۔ اس لئے وائی ایس آر کانگریس کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ مسلم طبقہ سے چیرپسن کا انتخآب کریں ۔