مہاراشٹرا میں دیوالی کے بعد ہی بی جے پی حکومت کا قیام

ممبئی۔ 21 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کا ستارہ مہاراشٹرا کے سیاسی اُفق پر صرف روشنی کے تیوہار کے بعد ہی نمودار ہوگا۔ بی جے پی کے ذرائع نے آج کہا کہ پارٹی قائدین ان ناموں کو قطعیت دے رہے ہیں جنہیں نئی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ دیوالی سے پہلے یہ کارروائی مکمل ہوجائے گی چنانچہ تشکیل حکومت دیوالی کے بعد ہی ممکن ہے۔ بی جے پی مقننہ پارٹی کے قائد کا انتخاب دیوالی کے بعد ہی ہوگا۔ پارٹی کے مرکزی مبصر راج ناتھ سنگھ دیوالی کے بعد ہی ممبئی کا دورہ کریں گے اور ان کی موجودگی میں نیا قائد منتخب کیا جائے گا جو چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف اٹھائے گا۔ یہ انتخاب راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں ہی کیا جائے گا۔ راج ناتھ سنگھ بی جے پی کے جنرل سیکریٹری جے پی ندّا کو مقننہ پارٹی کے قائد کے انتخاب کے لئے مبصرین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی کل رات آمد متوقع تھی، تاہم دہلی میں آج صبح ایک پریس کانفرنس میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان کا دورہ ملتوی کردیا گیا ہے۔ وہ دیوالی کے بعد ممبئی کا دورہ کریں گے۔ مہاراشٹرا میں تشکیل حکومت اور اس کی ہیئت ترکیبی کے بارے میں تجسس برقرار ہے۔ بی جے پی جنرل سیکریٹری انچارج اُمور مہاراشٹرا راجیو پرتاپ روڈی نے کل کہا تھا کہ سب سے بڑی واحد پارٹی ہونے کے ناطے بی جے پی حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ اکثریت کے حصول کی کوشش سے بھی پہلے ہی کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سے ربط پیدا کرکے تشکیل حکومت کا دعویٰ کرنے کے لئے قطعی اکثریت کا حصول لازمی نہیں ہے۔ 288 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 122 نشستیں حاصل ہیں چنانچہ سب سے بڑی واحد پارٹی ہونے کی بناء پر تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرسکتی ہے۔ بی جے پی کے 122ارکان اسمبلی ہیں اور ماقبل انتخابات حلیف راشٹریہ سماج رکھشا کا ایک رکن اسمبلی ہے۔ شرد پوار کی این سی پی کے 41 ارکان اسمبلی ہیں جس نے پہلے ہی ’’بیرونی تائید‘‘ کا پیشکش کیا ہے۔ بی جے پی حکومت تشکیل دے سکتی ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پارٹی دوبارہ سابق حلیف شیوسینا سے مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لئے اتحاد کرے گی یا نہیں۔ ذرائع کے بموجب پارٹی اس مہلت کو نئی کابینہ میں شامل کئے جانے والے افراد کے ناموں کو قطعیت دینے کے لئے استعمال کررہی ہے، تاحال توجہ صرف بی جے پی ارکان پر مرکوز ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ سابق حلیف شیوسینا کا کوئی بھی وزیر ریاستی کابینہ میں نہیں ہوگا۔ حالانکہ بی جے پی اور شیوسینا اقتدار میں شراکت داری کی باتیں کررہے تھے۔