مہاراشٹرا سے زیادہ منگولیا خوش قسمت ملک: شیوسینا

ممبئی ۔ 20 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج منگولیا کو ایک بلین ڈالر قرض فراہم کرنے وزیراعظم نریندر مودی کے اعلان کو تنقید کانشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے مہاراشٹرا کے مقروض کسانوں کی امداد کیلئے اسطرح کی گرمجوشی کیوں نہیں دکھائی۔ شیوسینا نے بتایا کہ وزیراعظم کے اس اقدام سے ان کسانوں کی روح مجروح ہوگئی جنہوں نے حالیہ دنوں میں قرضوں کے بوجھ سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی ہے۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے منگولیا کیلئے ایک بلین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوسکے ۔ ایک چھوٹے ملک کی ترقی کیلئے وزیراعظم نے اخلاقی ذمہ داری نبھائی ہے لیکن معلنہ امداد کوئی معمولی رقم نہیں ہے اور اس اقدام سے ہمارے کسانوںکی روح تڑپتی ہوگی جنہوں نے بے یار و مددگار حالت میں خودکشی کرلی تھی۔

مرکز میں این ڈی اے حکومت حلیف جماعت نے کہا کہ نریندر مودی نے ایسے وقت بیرونی ملک کیلئے قرض دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ پریشان حال کسان بینکوں اور خانگی ساہوکاروں کے قرض کے جال میںپھنسے ہوتے ہیں اورحکومت سے مالی امداد کے انتظار میں ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان سے امداد حاصل کرنے میں مہاراشٹرا سے کہیں زیادہ منگولیا خوش قسمت ہے کیونکہ وزیراعظم ایک بھاری رقم دیکر یہ ظاہر کرنا چاہتے کہ ہندوستان معاشی طور پر خوشحال ملک ہے ۔ وزیر اعظم کی فراخدلی پر انگشت نمائی کرتے ہوئے شیوسینا نے دریافت کیا کہ ریاست کے بدحال کسانوں کی امداد کیلئے اس طرح کی جلد بازی کیوں نہیں دکھائی گئی ۔ پارٹی ترجمان نے یہ سوال اٹھایا کہ ایسے وقت منگولیا کو بھاری رقم دینے کی ضرورت کیا تھی جبکہ امریکی ڈالر کے مقابل ہندوستانی روپیہ زوال پذیر ہے اور وزیراعظم نے جیتا پور میں اپنے پسندیدہ ایٹمی توانائی پلانٹ کے قیام سے متاثرہ کسانوں کی امداد گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ منگولیا کے حالیہ دورہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے یہ اعلان کیا تا کہ اس ملک کے معاشی استحکام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک بلین امریکی ڈالر کا قرض فراہم کیا جائے گا۔