مکتھل میں کانگریس کو سب سے بڑی جماعت کا موقف

مکتھل /15 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مکتھل منڈل پریشد کیلئے منعقدہ انتخابات کے نتائج کے بعد مکتھل منڈل پریشد میں کانگریس سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھر کر آئی ہے ۔ مکتھل منڈل کے جملہ 21 ایم پی ٹی سی ایز حلقوں میں 8 کانگریس ، تلگودیشم 5 اور بی جے پی 5 کے علاوہ ٹی آر ایس کو 3 نشستیں ملی ہیں جبکہ حلقہ اسمبلی مکتھل میں شامل تمام پانچ منڈلس کے ضلع پریشد زیڈ پی ٹی سی نشستوں پر کانگریس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس طرح حلقہ اسمبلی مکتھل میں کانگریس نے اپنی قوت و استحکام کا اشارہ دیا ہے اور کاگنریس حلقوں نے حلقہ اسمبلی مکتھل کی نشست پر اپنی کامیابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے پورے حلقہ میں کانگریس کی لہر کا دعوی کیا جارہا ہے تاہم اسمبلی کے کل ہونے والے نتائج ہی واضح کردیں گے آیا واقعی کانگریس لہر ہے یا رائے دہندوں نے مقامی انتخابات اور اسمبلی و پارلیمنٹ کے انتخابات کیلئے ووٹوں کی شکل میں اپنی الگ الگ رائے کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم مکتھل منڈل پریشد پر کانگریس کو اپنا قبضہ بنانے کیلئے ابھی تین امیدواروں کی ضرورت ہے اور ٹی آر ایس کے تین امیدواروں کی کامیابی کے بعد سمجھا جارہا ہے کہ کانگریس ، ٹی آر ایس کے اتحاد سے منڈل پریشد پر اپنا دعویٰ پیش کرسکتی ہے یا یہ بھی قیاس کیا جارہا ہے کہ تلگودیشم اور بی جے پی دونوں نے جو مساوی نشستیں 5 ، 5 حاصل کی ہے ٹی آر ایس کے اتحاد سے یہ دونوں جماعتیں منڈل پریشد پر اپنا دعوی پیش کردیں۔ مگر تینوں جماعتوں کے اتحاد کی امید کم ہے تاہم سیاسی مبصرین اس سے ہٹ کر امیدواروں کی خرید و فروخت اور توڑ جوڑ کے پہلو کو بھی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں جبکہ زیڈ پی ٹی سی کیلئے حلقہ اسمبلی مکتھل کے پانچ منڈلس مکتھل ، اوٹکور ، آتماکور ، مانگنور ، نروا میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ مکتھل زیڈ پی ٹی سی کے کانگریس امیدوار مسٹر سری ہری نے 8 ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ضلع کے تمام 64 منڈلوں کے زیڈ پی ٹی سی کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ بنایا ۔ مکتھل منڈل کے مستقر ٹاون کے پانچ ایم پی ٹی سی حلقوں میں وارڈ نمبر 1 سے ٹی آر ایس ، وارڈ نمبر 2 سے کانگریس اور وارڈ نمبر 3 سے تلگودیشم اور وارڈ نمبر 4 سے کانگریس جبکہ وارڈ نمبر 5 سے بی جے پی امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ اس کے علاوہ مستقر مکتھل ٹاون کے حلقوں میں دو حلقوں میں مسلم امیدواروں نے مقابلہ کیا ۔ مگر ناکام رہے جبکہ وارڈ نمبر 1 سے کانگریس کے مسلم ا میدواروں کو صرف 20 ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست ہوئی ۔