مودی کے ساتھ لڑائی کا کجریوال کا ادعا اجئے رائے کی جانب سے مسترد

وارانسی 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام )اعلی سطحی لوک سبھا انتخابی حلقہ میں رائے دہی جاری رہنے کے دوران عام آدمی پارٹی کے امیدوار اروند کجریوال نے کہا کہ ان کی لڑائی راست بی جے پی کے نریندر مودی کے ساتھ ہیں اور کانگریس کے امیدوار اجئے رائے اس مقابلے میں کہیں بھی نہیں ہیں۔ تاہم اجئے رائے نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وارانسی کے رائے دہندے انہیں منتخب کریں گے کیونکہ انتخابی مقابلہ میں موجود امیدواروں میں وہی واحد ’’دھرتی کے لال‘‘ ہیں۔کجریوال نے کہا کہ مودی کے ساتھ ان کی راست لڑائی ہے اور اس میں اجئے رائے کہیں بھی نظر نہیں آتے ۔ انہوں نے کہا کہ ان پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا دریں اثناء عام آدمی پارٹی قائد منیش سیسوڈیہ کی وارانسی میں موجودگی پر اعتراض کیا گیا کیونکہ انتخابی مہم میں کئی بیرونی افراد ملوث تھے ۔ صرف امیدوار بیرونی نہیں تھے انہیں انتخابی مہم ختم ہوجانے کے بعد 10 مئی کی شام سے اپنے انتخابی حلقوں تک محدود ہوجانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ برقی رائے دہی مشینوں میں بعض مراکز رائے دہی پر معمولی سے مسائل پیدا ہوئے تھے ۔ یو پی میں سماجوادی پارٹی حکومت کی جانب سے تقسیم کئے ہوئے لاپ ٹاپس کی موجودگی کی وجہ سے بعض رائے دہی مراکز پر بعض گوشوں کی جانب سے تنقید کی گئی بعض مراکز رائے دہی پر رائے دہندوں نے شکایت کی کہ ان کے نام رائے دہندوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ اپنی پارٹی کے انتخابی نشان ہاتھ کا کرتا پہنے ہوئے اجئے رائے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے ایک مرکز رائے دہی پر پہنچے انہوں نے کجریوال کے ادعا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج ظاہر کردیں گے کہ وارانسی کے عوام ایک مقامی شخص کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سوال پر کہ ہاتھ کے نشان کی ٹوپی اور کرتا پہن کر ووٹ دینے آنا کیا انتخابی قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہے مودی نے کہا کہ وہ امیدوار ہیںاور انہیں اپنی پسند کی انتخابی علامت کے اظہار کا حق ہے ۔