مودی کے خیالات اور تقریروں میں ربط کا فقدان ‘ تاریخ کے اسباق پڑھنے کی ضرورت

نئی دہلی 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے آج کہا کہ ان کے خیالات اور بیانات غیر مربوط ہیں انہیں نے کہا کہ نریندر مودی کو تاریخ کے سبق لینے چاہئے اس کے بعد عام جلسوں سے خطاب کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مودی کو دوبارہ اسکول میں داخلہ لینے کی ضرورت ہے تا کہ تاریخ کے مناسب اسباق حاصل کرسکے ۔ وہ تاریخ سمجھنے سے قاصر ہیں وہ نہیں جانتے کہ ٹیکسیلا کہاں واقع ہے ۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ خود ان کی پارٹی کے بانیوں کے کیا نام ہیں ۔ وہ سی آئی آئی کی ایک تقریب کے موقع پر علحدہ طور پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی کے خیالات اور بیانات میں کوئی ربط نہیں ہے ۔ وہ جو چاہتے ہیں کہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں کہتے ہیں ۔ سلمان خورشید نے نریندر مودی پر ایک نوجوان خاتون کی 2009 ء میں مبینہ جاسوسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کبھی وہ شہزادہ کو صاحبزادہ کہہ دیتے ہیں اور کبھی صاحبزادہ کو شہزادہ ۔ میرے خیال میں انہیں مناسب اسباق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں چاہئے کہ اسباق حاصل کرنے کی تکمیل کے بعد ہی تقریریں کریں ۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا تھا کہ راہول گاندھی کا کرشمہ مدھم پڑ رہا ہے اور ان کے عام جلسوں میں عوام کی کم تعداد شرکت کررہی ہے ۔ وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ بی جے پی کو خود اپنی سرگرمیوں کی فکر ہونی چاہئے ۔ اگر ان کے عام جلسوں میں کثیر تعداد میں عوام آرہے ہیں تو انہیں فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ عوام کی یہ کثیر تعداد ان کے جلسوں میں اپنا وقت بھی صرف کررہی ہے ۔ انہیں ہمارے جلسوں میں عوام کی عدم شرکت پر فکر نہیں ہونی چاہئے ۔ انہیں اپنا کام کرنا چاہئے اور ہمیں ہمارا کام کرنے دینا چاہئے ۔ ہمارے جلسوں میں شریک ہونے والوں کی تعداد کی فکر کئے بغیر انہیں ذرائع ابلاغ سے یہ کہنا چاہئے کہ وہ ہجوم کو جمع کرنے کیلئے کتنی رقم خرچ کررہے ہیں یا ہجوم جمع ہونے کی کیا فیس لے رہے ہیں ۔ اگر وہ ایسا ذرائع ابلاغ سے کہنا چاہیں تو ٹھیک ہیں ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ سلمان خورشید نے کہا کہ انہوں نے کئی مقامات پر بڑے عام جلسوں کا اہتمام کیا ہے لیکن بعد میں انتخابات میں ہار گئے ۔ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے بنگلور میں بی جے پی کے جلسوں میں شرکت کی ۔ انتخابات میں ناکامی کے بعد انہوں نے بڑے بڑے عام جلسوں کا اہتمام کیا ۔ انہوں نے مودی کے ان الزامات کو مسترد کردیا جو انہوں نے عام جلسوں میں اپنی تقاریر کے دوران عائد کئے تھے اور کہا کہ وہ صرف اسی وقت اپنا ردعمل ظاہر کریں گے جب مودی کوئی عقل مندی کی بات کریں ۔ جلسوں میں عوام کی تعداد کے بارے میں بات نہ کریں ۔ انا ہزارے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سلمان خورشید نے کہا کہ انا ہزارے نے عام آدمی پارٹی کے کنوینر ارویند کجریوال سے بہت تاخیر سے جواب طلب کیا ہے ۔ اگر وہ بروقت ایسا کرتے تو آج کا دن دیکھنا نہ پڑتا ۔
احتجاجیوں پر پولیس کی برہمی کی قومی انسانی حقوق کمیشن تحقیقات کریں :سپریم کورٹ
نئی دہلی 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ نے آج قومی انسانی حقوق کمیشن کو حکم دیا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے کارکنوں پر جو جاریہ سال جون میں عصمت ریزی کے مقدمہ میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کے خلاف احتجاج کررہے تھے ،پولیس کی بے رحمی کے بارے میں تحقیقات کرے ۔ جسٹس جی ایس سنگھوی کی زیر قیادت بنچ نے عام آدمی پارٹی کارکن کی درخواست جس میں پولیس تحقیقات پر اعتراض کیا گیا تھا اور گذارش کی گئی تھی کہ مقدمہ کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں گذشتہ ماہ درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے خواتین پر مظالم میں اضافہ پر فکری مندی ظاہر کی اور کہا کہ بسوں میں سفر کے دوران بھی وہ بد سلوکی سے محروم نہیں ہیں ۔ عدالت کی بنچ نے واقع کی ایک وڈیو فلم کا مشاہدہ بھی کیا جو حقیقی صورتحال جاننے کیلئے دہلی پولیس کی جانب سے تیار کی گئی تھی تاہم عدالت کا خیال تھا کہ فلم میں لاٹھی جارچ کے مناظر نہیں ہے ۔

Leave a Comment