مودی کیلئے ’’ناگپور کی چھڑی‘‘ کتنی بڑی اور لمبی ہوگی

نئی دہلی۔ 7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کا سہرا آر ایس ایس کے سَر باندھتے ہوئے کانگریس کے قائد سچن پائلٹ نے آج کہا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ وزیراعظم ’’ناگپور کے دباؤ‘‘ کو کس حد تک برداشت کرسکیں گے۔ انہوں نے اظہارِ حیرت کیا کہ نریندر مودی کے لئے ’’سنگھ کی چھڑی‘‘ کتنی بڑی اور لمبی ہوگی۔ بی جے پی کے کانگریس سے پاک ہندوستان کے نعرہ پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ناگپور جہاں آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر ہے، حکومت پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا تو اس کا حقیقت سے دُور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ ہم نے بی جے پی سے پاک ہندوستان یا جنتا دل سے پاک ہندوستان کی بات نہیں کہی۔ جو لوگ انتہائی عہدوں پر فائز ہیں، حکومت پر حکمرانی کرنے والے نظریات کے عکاس ہیں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ناگپور کا این ڈی اے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے تو وہ حقیقت بیانی سے کام نہیں لیتا۔ سچن پائیلٹ نے مزید کہا کہ آپ دیکھ رہے کہ یہ مسئلے اُبھر آئیں گے۔ وشوا ہندو پریشد، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور گوا کے وزراء کے بیانات منظر عام پر آرہے ہیں کہ خواتین کو کیسا لباس پہننا چاہئے اور کیسا لباس نہیں پہننا چاہئے۔ اس طرح اس ملک کے شہریوں کی آزادی اور خودمختاری میں دخل اندازی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے تیقن دیا ہے کہ دستورِ ہند واحد کتاب ہے جس پر وہ عمل آوری کریں گے۔ سچن پائیلٹ نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ’’ناگپور کی چھڑی‘‘ کتنی بڑی اور لمبی ہوگی جو اُن کے لئے استعمال کی جائے گی اور وہ اس کے دباؤ کو کس حد تک برداشت کریں گے۔ آر ایس ایس کا ایک ایجنڈہ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ مودی کی انتخابی کامیابی چاہے کوئی اس کی کتنی بھی تردید کرے، آر ایس ایس کے سَر ہے۔ نامور بی جے پی قائد ایل کے اڈوانی کے حالیہ تبصروں کے بارے میں جو انہوں نے مودی کی کامیابی کو ’’3 سنچریوں کے مماثل‘‘ قرار دیا تھا، انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جب مودی کو پارٹی کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا تو اڈوانی کا ردعمل کیا تھا۔ انہوں نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بی جے پی کے اندر جو داخلی خانہ جنگی جاری تھی، اس وقت تک جاری رہی ، جب تک کہ پارٹی میں آر ایس ایس کی بھرپور تائید نہیں کی۔ یہ تحدیدات اور شگاف بعدازاں کبھی بھی اُبھر سکتے ہیں۔ اسے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام نے بی جے پی کو جو قطعی اکثریت عطا کی ہے ، اس کے باوجود وہ عوام کے جذبات اور احساسات کی تکمیل نہیں کرسکتے، کیونکہ وہ اس کے لئے آزاد نہیں ہیں۔