چینائی ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعلیٰ تملناڈو جیہ للیتا نے آج اپنی پارٹی کے ایک لیڈر کو صرف اس لئے خارج کردیا کہ اس نے میڈم کو مشورہ دیا تھا کہ ملک کے آئندہ ممکنہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کرلی جائے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے سابق رکن پارلیمان کے ملائی سامی نے دو روز قبل ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ مودی جیہ للیتا کے اچھے دوست ہیں، باوجود اس کے کہ دونوں میں سیاسی اختلافات بھی ہیں۔ ملائی سامی نے کہا تھا کہ اگر مودی وزیراعظم بن گئے تو جیہ للیتا ان سے سیاسی قربت کی خواہاں ہوں گی۔ برہم جیہ للیتا نے ملائی سامی پر پارٹی کے وقار کو مجروح کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مسٹر سامی کے مشورہ اور بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا البتہ صرف اتنا کہا تھا کہ نتائج کا کل اعلان ہونے والا ہے لہٰذا انتظار کیجئے اور دیکھئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ این ڈی ٹی وی کی جانب سے جاری اگزٹ پولس میں بی جے پی کو کانگریس پر فاتح قرار دیا گیا تھا اور بی جے پی کو اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی بتایا گیا تھا اور جیہ للیتا کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے 32 پارلیمانی نشستوں پر کامیابی کے بعد واضح اکثریت والی تیسری بڑی پارٹی کے روپ میں سامنے آئے گی۔
اگزٹ پولس میں بی جے پی اتحاد کیلئے 279 نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی تھی جو حکومت تشکیل دینے کے لئے درکار تعداد 272 سے 7 نشستیں زائد ہیں۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ مزید مستحکم اتحاد کیلئے مودی جیہ للیتا کی اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ مودی اور جیہ للیتا نے ماضی میں بھی کئی مواقع پر ایک دوسرے سے بات چیت کی تھی اور گجرات میں مودی جب وزیراعلیٰ بنے تھے تو ان کی حلف برداری کی تقریب میں جیہ للیتا نے شرکت کی تھی اور مودی نے بھی جیہ للیتا کی حلف برداری تقریب میں شرکت کی تھی۔