نئی دہلی ، 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ چین کو ’’مکمل اور سراسر ناکام‘‘ قرار دیا بلکہ پارٹی نے اُن پر اپوزیشن پارٹیوں اور قائدین کو بار بار بیرونی سرزمین پر نشانہ بنانے کے اُن کے ’’ خبط‘‘ پر شدید تنقید کی۔ یہ ’’قابل مذمت اور ناقابل قبول‘‘ ہے، اے آئی سی سی نے سخت الفاظ پر مبنی بیان میں اس کے ساتھ مزید کہا کہ مودی کیلئے ’’اچھا مشورہ یہی ہوگا کہ وہ آر ایس ایس پرچارک کا پریشان کن لبادہ نکال پھینکیں‘‘۔ وزیراعظم پر شدید حملہ چھیڑتے ہوئے اے آئی سی سی کے رابطہ محکمہ کے اِنچارج رندیپ سرجے والا نے الزام عائد کیا کہ مودی نے اپنے دورۂ چین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’پھر وہی کیا ہے‘‘ کہ ’’اپوزیشن پر کینہ پرور اور بدمزہ حملہ چھیڑا اور خود اپنی پیٹھ تھپتھپانے لگے ہیں‘‘۔ گزشتہ 67 سال کے ہندوستان کے کارہائے نمایاں کی مودی کی جانگ سے بیرونی سرزمین پر لفظی کردار کشی ناقابل قبول ہے اور مایوسانہ سیاست پر عمل پیرا ہونے میں نئی پستی کے مترادف ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ کناڈا سے چین تک وزیراعظم اس تاریخی فاش غلطی کا اعادہ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ وہ عدم اتفاق ، اپوزیشن اور وزیراعظم کے اعلیٰ عہدہ کے اخلاقی اصولوں کا معمولی سا احترام تک نہیں کررہے ہیں۔
دریں اثناء کانگریس نے آج یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو فوری واپس لیا جائے اور الزام عائد کیا کہ حکومت عام آدمی کی ’’پریشانی‘‘ سے ’’نفع کمانے‘‘ کمربستہ ہے۔ اے آئی سی سی نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ عوام پر فی لیٹر پٹرول 19.49 روپئے اور فی لیٹر ڈیزل 15.11 روپئے اضافہ وصول کئے جارہے ہیں، یہ بھی مطالبہ کیا کہ گزشتہ نومبر سے عائد اکسائز ڈیوٹی اضافے اور پٹرولیم اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی میں بھی اضافہوں سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ سرجے والا نے یہ مطالبہ کل رات حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 3.31 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2.71 روپئے فی لیٹر اضافے کے پس منظر میں کیا ہے۔