مودی کابینہ سے داغدار وزراء کی برطرفی وزیراعظم کی اخلاقی ذمہ داری

نئی دہلی۔ 27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی کابینہ میں مجرمانہ ریکارڈ کے حامل سیاست دانوں کی موجودگی پر سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد وزیراعظم کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی کابینہ سے داغدار وزراء کو برطرف کردیں اور ایسے قائدین کو کابینی درجہ نہ دیں جن کا پس منظر مجرمانہ ریکارڈ کا حامل رہا ہو۔ کانگریس کے لیڈر منیش تیواری نے سپریم کورٹ کی رولنگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے نہایت ہی حساس و نازک تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ توقع ہے کہ وزیراعظم اپنی کابینہ میں داغدار وزراء کو شامل نہیں کریں گے۔ وزیراعظم کو اب یہ معلوم ہوچکا ہے اور ان پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ آیا وہ سپریم کورٹ کی رولنگ سے اتفاق کرتے ہیں یا متفق نہیں ہیں، اس پر اخلاقی مظاہرہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ سیاست میں اخلاقی ذمہ داری کو بروئے کار لانا وزیراعظم کا فرص ہے۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر راشد علوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وزیراعظم کو یہ سخت پیام ہے۔ بالواسطہ طور پر سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کابینہ کے 13 یا 14 وزراء کو برطرف کردیں جو مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر سنجیدگی اختیار کرنا چاہتے۔ انتخابات سے قبل بی جے پی قائدین نے خاص کر وزیراعظم مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ رشوت کا خاتمہ کردیں گے۔

اب وقت آگیا ہے کہ وہ مجرمانہ ریکارڈ کے حامل 14 وزراء کو مرکزی کابینہ سے برطرف کردیں یو پی اے کی حکومت سے مجرمانہ ریکارڈ کا حامل کوئی بھی وزیر نہیں تھا۔ وزیراعظم مودی کو اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور سپریم کورٹ کے مشورہ پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ این سی پی کے لیڈر ڈی پی ترپاٹھی نے کہا کہ جو وزراء مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں، انہیں مرکزی کابینہ میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے۔ اگر چارج شیٹ داخل کی گئی ہے تو ایسے وزیر کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ کابینہ میں برقرار رہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں سپریم کورٹ کی رولنگ کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو ظاہر کردیا ہے۔ عدالت نے وزیراعظم کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ ترنمول کانگریس رکن اور سابق وزیر ریلوے دنیش تیواری نے کہا کہ داغ دار سیاست دانوں کے لئے پارلیمنٹ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب یہ بھول جانا چاہئے کہ کوئی بھی داغ دار لیڈر وزیر بن سکتا ہے۔ جو لوگ خطرناک مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ان کے لئے لیجسلیٹیو اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوامی زندگی کو صاف ستھرا رکھا جائے۔ سپریم کورٹ نے آج فیصلہ دیا تھا کہ اگرچیکہ وزیراعظم پر کوئی دباؤ نہیں ہے کہ آیا حکومت میں کسی بھی فرد کو وزیر بنانے کی سفارش کریں لیکن دستوری اخلاق و اعتماد کے پاسبان کی حیثیت سے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ داغدار لوگوں کو وزارت کی ذمہ داری نہیں دیں گے۔