نئی دہلی ۔ 2 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مالیگاؤں بم دھماکوں کے مقدمہ ملزمین کے خلاف نرم رویہ اختیار کرنے پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالیان کے این آئی اے کے خلاف انکشافات کے پس منظر میں سی پی آئی ایم نے مرکز پر آج الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے تعلق سے بھی فرقہ وارانہ خطوط پر کام کررہی ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ہندوتوا طاقتوں کو بچا رہی ہے اور اقلیتوں کو یہ پیام دیا جارہا ہیکہ ان سے کوئی انصاف نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی نے اپنے ماہنامہ ترجمان کے آئندہ شمارہ میں اداریہ تحریر کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ہندوتوا طاقتوں کے دہشت گرد حملوں سے متعلق مقدمات میں حکومت کا الٹ پھیر انتہائی خطرناک ہے۔ پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے یہ اداریہ تحریر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہنی سالیان نے جو انکشافات کئے ہیں وہ سنگین ہیں اور اس کے تکلیف دہ اثرات ہوں گے۔ پرکاش کرت نے کہا کہ دہشت گردی کے تعلق سے حکومت کا فرقہ پرستانہ رویہ اور ہندوتوا دہشت گرد حملوں کے مقدمات میں حکومت کا الٹ پھیر انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا دہشت گردوں کے حملوں میںجو بے شمار مسلمان ہلاک ہوئے ہیں ان کے افراد خاندان کو یہ پیام دیا جارہا ہے کہ ان سے کوئی انصاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا فاشسٹوں کیلئے بھی حکومت کا پیام واضح ہے۔
یہ قدرے مختلف پیام ہے۔ انہیں کہا جارہا ہیکہ یہاں ایک ایسی حکومت ہے جو ان کیلئے حفاظت اور تحفظ فراہم کرنے کا کام کرے گی۔ مالیگاؤں بم دھماکوں کے مقدمہ میں پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالیان نے 25 جون کو سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ این آئی اے کے ایک عہدیدار نے حکام بالا کا یہ پیام ان تک پہنچایا تھا کہ مالیگاؤں دھماکہ کے ملزمین کے تعلق سے نرم رویہ اختیار کیا جائے۔ اس انکشاف کے بعد اس سے کہا گیا ہیکہ وہ اس مقدمہ کی پیروی نہ کریں۔ پرکاش کرت نے کہا کہ مودی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد سے ہندو دہشت گردوں کے مقدمات پر این آئی اے کی سست پیشرفت واضح ہوگئی ہے اور ان کو بچانے کی کوشش ہورہی ہیں۔ روہنی سالیان نے جو حوصلہ مندانہ انکشافات کئے ہیں، ان سے دہشت گردی کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو بچانے کی کوششیں واضح ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے سنگھ پریوار کے اسی خیال پر عمل پیرا ہے کہ صرف مسلمان دہشت گرد ہوتا ہے ہندو نہیں۔ گجرات میں عشرت جہاں فرضی انکاونٹر کیس کا حوالہ دیتے ہوئے پرکاش کرت نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے اس ہلاکت میں ملوث بعض انٹلیجنس عہدیداروں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے نتیجہ میں سارے مقدمہ کی صحت پر اثر ہوا ہے۔ کرت نے کہاکہ مودی حکومت سرکاری دہشت گردی کا تحفظ کررہی ہے۔ وزارت داخلہ نے انکار کے نتیجہ میں عشرت جہاں قتل کیس بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بی جے پی حکومت اس کیس کو ختم کرنے کا راستہ ڈھونڈ چکی ہے جس نے اس وقت کی گجرات کی مودی حکومت کا امیج بری طرح متاثر کیا تھا۔ مالیگاؤں 2008ء میں ہوئے بم دھماکہ میں 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹننٹ کرنل سریکانت پروہت اور دوسرے شامل تھے۔ اس مقدمہ میں چار ملزمین کو ضمانت مل چکی ہے۔