نئی دہلی9 جون (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے آج مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ایجنڈہ کے خاکہ میں جو پارلیمنٹ میں صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے پیش کیا ہے کوئی ’’ٹھوس‘‘ لائحہ عمل پیش کرنے سے قاصر رہی۔ اس نے عوام کی بڑھتی ہوئی آرزوؤں کے پیش نظر انہیں صرف خواب دکھائے ہیں۔ کانگریس کے سینئر قائد سابق مرکزی وزیر ویرپا موئیلی نے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت حکومت کی توجہ حکمرانی ،ملازمتوں کی فراہمی اور افراط زر پرقابو پانے کے مسئلہ پر مرکوز نہیں ہے ۔ انہوں نے حکومت کے اس دعوے پر اعتراض کیا کہ وہ ملک کو 60 مہینوں میں قابل فخر بنادے گی۔ موئیلی نے کہا کہ حکومت صرف عوام کی آرزوؤں میں اضافہ کررہی ہے ۔ اس نے یہ نہیں ظاہر کیا کہ وہ ان آرزوؤں کی تکمیل کے لئے کیا کرے گی۔ عوام حکومت سے کئی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں اور ان کی تکمیل کے منتظر ہیں لیکن انہیں حکومت کے خاکہ میں کوئی ٹھوس منصوبے نظر نہیں آتے ۔ ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہے ۔ ایک اور سینئر قائد کمل ناتھ نے کہا کہ صدر جمہوریہ کا خطاب گذشتہ تین ماہ سے جو خواب دکھائے جارہے ہیں ان کے اعادہ کے سوائے کچھ نہیں ہے آئندہ چند مہینوں میں حکومت ان خوابوں کو حقیقت بنانے کیلئے اور امیدوں کی تکمیل کیلئے کیا کرتی ہے معلوم ہوجائے گا ۔ وہ پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ حکومت نے آج شرح ترقی اور ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیا جس میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور قابل قیاس ،شفاف اور منصفانہ ماحول پیدا کرنا شامل ہیں۔ عام انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اولین مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کئی سماجی ،حفظان صحت اور انفراسٹرکچر پروگرام کا آغاز کرے گی اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے علاوہ خواتین پر تشدد کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سیف الدین سوز نے صدر کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی بنیاد پر حکومت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس جموں و کشمیر کیلئے کچھ بھی نہیں ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت نے کشمیری پنڈتوں کو ان کی آبائی اراضی پر واپسی کو یقینی بنانے کا تیقن دیا تھالیکن کوئی ٹھوس تجاویز پیش نہیں کی گئی کہ اس بارے میں کیا کیا جائے گا ۔ پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے خطاب میں یہ بھی نہیں کیا گیا کہ نئی حکومت ریاست کو کس طرح ترقی دے گی جسے خسارہ بجٹ کا سامنا ہے ۔