مودی حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ: سونیا

تھرواننتھاپورم 12 اگست ( سیاست ڈاٹ کام) صدرکانگریس سونیا گاندھی نے آج مودی حکومت کو فرقہ وارانہ فسادات پر تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور دعوی کیا کہ بی جے پی برسراقتدار آنے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ فرقہ وارانہ فسادات عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی دانستہ کوشش کا حصہ ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی شکست کے بعد دہلی کے باہر پارٹی فورم سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اترپردیش‘ مہاراشٹرا اور ملک کے دیگر حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات ہم سب کیلئے انتہائی تشویشناک ہیں ۔سونیا نے کیرالہ پردیش کانگریس کے زیر اہتمام کنونشن سے کہا کہ ملک اور بالخصوص شمالی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کافی بڑھ گیا ہے۔ نئی حکومت کے اقتدار پر آنے کے گیارہ ہفتوں میں ایسے واقعات میں اضافہ ہم سب کیلئے تشویش کا باعث ہیں۔

اُنھوں نے کہاکہ ہمارا یہ ایقان ہے کہ یہ واقعات دانستہ طور پر کرائے جارہے ہیں تاکہ عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔ سونیا گاندھی نے کہاکہ اترپردیش میں فرقہ وارانہ تشدد کے 600 سے زائد واقعات پیش آئے اور شاید مہاراشٹرا میں بھی اتنے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یو پی اے I اور یو پی اے II کے دوران بمشکل ایسے واقعات دیکھے گئے۔ سونیا گاندھی نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یگانگت میں ناکامی پر بھی مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنھوں نے کہاکہ غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے نتیجہ میں فلسطینی عوام بُری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن مرکز نے ملک کی کئی دہوں قدیم پالیسی کو کالعدم کردیا ہے۔

اُنھوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ اِسی طرح کے پروگرامس منعقد کرکے سیکولرازم کو مستحکم بنانے مثبت مہم چلائیں۔اس دوران مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے سونیا گاندھی کے اس ریمارک پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا کہ جب سے بی جے پی مرکز میں برسر اقتدار آئی ہے ، فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ نائیڈو نے کہا کہ ریمارک کرنے سے قبل سونیا جی کو پہلے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنا چاہئے اور اپنی حکومت کا دور یاد کرنا چاہئے ۔ نائیڈو نے کہا کہ کانگریس اور فرقہ پرستی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ یہ کانگریس کی تقسیم کردینے کی سیاست اور فرقہ پرستی کا ایجنڈہ ہی تھا جس نے ملک کو آج اس حالت میں پہنچا دیا ۔وزیراعظم کے دفتر میں مملکتی وزیر جتیندر سنگھ نے بھی سونیا کے تبصرہ کو مسترد کردیا اور کہا کہ نریندر مودی نے پہلے ہی اپنا موقف واضح کردیا ہے۔ علاوہ ازیں بی جے پی نے بھی سونیا گاندھی کے تبصرہ پر شدید تنقید کی ہے ۔