احمدآباد ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی نے اگرچہ اپنے قریبی حریف کانگریس کے مدھو سدن مستری کو 5,70,128 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے شکست دی لیکن سی پی آئی ایم کے انیل باسو کی طرف سے بنایا گیا، بھاری اکثریت کا ریکارڈ توڑنے میں ناکام ہوگئے۔ حلقہ لوک سبھا ودودرا میں بی جے پی نے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی اپنے پہلے پارلیمانی مقابلہ میں باسو کے بعد دوسری بھاری اکثریت کا ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ انیل باسو 7 مرتبہ لوک سبھا کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے 2004ء کے انتخابات میں مغربی بنگال کے حلقہ آرام باغ سے 5,92,502 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی
جو ملک میں سب سے زیادہ اکثریت کا ریکارڈ ہے جو مودی کی اکثریت سے 22,374 ووٹ زیادہ ہیں۔ قبل ازیں موجودہ ایل جے پی کے سربراہ رام ولاس پاسوان نے 1989ء میں جنتادل کے امیدوار کی حیثیت سے بہار کے حلقہ لوک سبھا حاجی پور سے 5,04,448 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریکارڈ قائم کیا تھا۔ پاسوان نے 1979ء میں بھارتیہ لوک دل کے امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرتے ہوئے 4,24,545 ووٹوں کی اکثریت حاصل کرتے ہوئے بھی ایک ریکارڈ بنایا تھا لیکن سی پی آئی ایم کے انیل باسو نے 2004ء میں سب سے زیادہ اکثریت حاصل کرتے ہوئے تمام ریکارڈس توڑ دیئے تھے اور مودی اپنی مقبولیت کی زبردست لہر کے باوجود یہ ریکارڈ نہیں توڑ سکے۔ اس طرح وہ 5 لاکھ سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والے تیسرے سیاستداں بن گئے ہیں۔