مودی اپنی راہ کھو چکے ، برطانوی سیاستدان دیسائی کا تاثر

وزیراعظم کا شیدائی ،نقاد بن گیا !

ممبئی ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی سیاستدان اور ماہر معاشیات میگھناد دیسائی جو حالیہ عرصہ تک نریندر مودی کے شیدائی ہونے کا اعتراف کرتے تھے، اب انہوں نے وزیراعظم پر ٹیم ورک میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا اور پیش قیاسی کی ہیکہ مایوس ووٹرس انہیں دوبارہ اکثریت کے ساتھ اقتدار پر نہیں لائیں گے۔ دیسائی نے کہا کہ مودی نے حد سے زیادہ وعدے کردیئے اور وہ ایسا ماننے میں غلطی پر ہیکہ وہ سارا ملک چند بیوروکریٹس کی مدد سے چلا سکتے ہیں اور طاقتور کابینہ کی انہیں ضرورت نہیں، جیسا کہ انہوں نے گجرات میں کیا جب وہ چیف منسٹر تھے۔ دیسائی نے آج نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو انٹرویو میں کہا کہ بہرحال عوام مایوس ہیں۔ یہ احساس پایا جاتا ہیکہ ’اچھے دن اب تک نہیں آئے‘۔ لندن میں مقیم دیسائی جو طویل عرصہ سے لیبر پارٹی ممبر ہیں، انہوں نے کہا کہ مودی کو زبردست موقع ملا تھا اور ایسا ظاہر ہورہا ہیکہ ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرنے کے فقدان سے ان کی ساری کوششیں رائیگاں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی اچھے سیاستداں ضرور ہیں لیکن اچھے ٹیم پلیر نہیں۔ وہ ٹیم لیڈر بھی نہیں ہیں۔ البتہ عوامی قائد ہیں لیکن سب لوگوں کو لیکر کام کرنا ان کا شیوہ نہیں ہے۔ دیسائی نے نشاندہی کی کہ ارون جیٹلی اور سشماسوراج کے سواء مودی کابینہ میں کسی دیگر وزیر کو پہلے سے کچھ تجربہ نہ تھا۔ اس کے برخلاف یو پی اے حکومت میں جس کی قیادت غیرمتوقع طور پر منموہن سنگھ نے کی، کم از کم 6 کابینی وزراء بشمول پرنب مکرجی، ارجن سنگھ، شردپوار اور پی چدمبرم تھے جو تمام وزیراعظم بننے کی صلاحیتوں کے حامل رہے ہیں۔ مودی کو کچھ اندازہ نہ تھا کہ حالات اس قدر مشکل ہوجائیں گے اور اب معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہیکہ انہیں اقتدار کے ایک اور موقع کے لئے عوام سے اپیل کرنا پڑے گا۔