مودی : آہنی ارادوں اور فیصلہ کن شخصیت کے حامل

احمد آباد۔/16مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) نریندر مودی جن کا ہندوستان کا آئندہ وزیر اعظم بننا تقریباً یقینی ہے جہاں انھیں اگر اپنے مخالفین کی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف ان کے مداحوں نے ہمیشہ ان کی تائید کرتے ہوئے ان سے یہ توقعات وابستہ رکھیں کہ ہندوستان کو اگر موجودہ بحران ( اسکامس، اسکینڈلس ، عصمت ریزیاں ) سے کوئی باہر نکال سکتا ہے تو وہ نریندر مودی ہیں۔ اپنی دشوار کن اور تھکادینے والی انتخابی مہمات کے دوران نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ شاید خدا نے ہی ان کا انتخاب کیا ہے جس نے انہیں اقتدار کی سب سے طاقتور دہلیز پر لاکھڑا کیا ہے۔ مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ’’ ٹیم ورک ‘‘ میں ایقان رکھتے ہیں

اور جن لوگوں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ مودی آہنی ارادوں اور فیصلہ کن موقف کے حامل شخصیت ہیں۔ ابتداء میں ہندوستان کی عوام کے علاوہ ہر پارٹی کے بڑے بڑے لیڈروں کو بھی یہ شبہ تھا کہ مودی، اٹل بہاری واجپائی جیسی سحر انگیز شخصیت ثابت ہوں گے یا نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں انہوں نے چائے ضرور فروخت کی ہے لیکن وہ یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کو فروخت نہیں کریں گے جیسا کہ مبینہ طور پر کانگریس نے کیا ہے۔ گجرات کے مسلم کش فسادات کیلئے مودی کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا رہا اور اب بھی اس فکر میں تبدیلی آنا مشکل ہے لیکن کانگریس کی عدم کارکردگی، منموہن سنگھ کی طویل خاموشی اور اسکامس پر اسکامس کا رونما ہونا خود کانگریس کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔

اگر یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ملک میں ’ مودی لہر‘ نہیں تھی بلکہ ’ کانگریس مخالف لہر ‘ تھی جس نے بی جے پی کو زبردست کامیابی دلائی۔ اکٹوبر 2001ء میں مودی کو کیشو بھائی پٹیل کی جگہ پر گجرات کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ اقتدار حاصل کرنے کے صرف پانچ ماہ بعد گجرات کے گودھرا میں مسلم کش فسادات کا ذمہ دار مودی کو ٹھہرایا گیا جہاں سابرمتی ایکسپریس کے ایک کمپارٹمنٹ میں 59کارسیوکوں کے آتشزدگی میں ہلاک ہوجانے کے بعد مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ بہرحال جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم کے جلیل القدر عہدہ کے امیدوار کا کردار پاک و صاف ہونا چاہیئے جبکہ مودی کے بارے میں ایسا نہیں کہا جاسکتا لیکن عوام کا فیصلہ بھی اپنی جگہ مقدم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی حکومت بننے کے بعد ملک کے لئے کیااصلاحات کرتے ہیں اور ان کا’ خفیہ‘ ایجنڈہ کیا ہوگا۔