مودی، بی جے پی نے مخالف ریزرویشن احتجاج بھڑکائے

احمد آباد / نئی دہلی /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی کی جانب سے اپنی ذات کا کارڈ استعمال کئے جانے کو محض انتخابی شعبدہ بازی قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے گجرات کانگریس نے آج انھیں، بی جے پی اور آر ایس ایس کو اس ریاست میں پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن کے خلاف احتجاجوں کی سازش رچانے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ صدر جی پی سی سی ارجن مودھ وادیا نے کہا کہ اگر مودی کا تعلق پسماندہ ذات سے ہے تو وہ یہ مسئلہ انتخابات سے عین قبل کیوں اٹھا رہے ہیں؟ اور الزام عائد کیا کہ وہ محض شمالی ہند میں انتخابی فوائد کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔

مودھ وادیا نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 1985ء میں جب ریاستی چیف منسٹر مادھو سنہہ سولنکی نے 82 پسماندہ ذاتوں کے لئے 27 فیصد ریزرویشن پر عمل آوری کا فیصلہ کیا تو بی جے پی قائدین کی اکثریت نے اس اقدام کی مخالفت کی اور ریاست بھر میں وسیع پیمانے پر تشدد بھڑکایا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔ اس وقت مودی جو ڈاکٹر ہیڈگوار بھون میں بیٹھتے تھے، انھوں نے دلتوں کے خلاف تشدد کی سرپرستی کی۔ مودھ وادیا نے مزید کہا کہ جب وی پی سنگھ نے بی جے پی کی مدد سے حکومت تشکیل دی اور منڈل کمیشن کی سفارشات پر ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تو بی جے پی نے تائید سے دست برداری اختیار کرلی اور حکومت گرادی۔ لہذا بی جے پی اور آر ایس ایس ہمیشہ مخالف دلت اور مخالف پسماندہ طبقات رہے ہیں۔

اس دوران دہلی میں مرکزی وزیر ویلار روی نے کہا کہ مودی ’’نیچ جاتی‘‘ جیسی اصطلاحیں استعمال کر رہے ہیں، جس کی کانگریس مذمت کرتی ہے اور انھیں عوام سے ضرور معذرت خواہی کرنی چاہئے۔ روی نے کہا کہ کسی برادری کو نیچ کہنا دستور، بنیادی اقدار مساوات اور عوام کے مساوی احترام کے مغائر ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری اجے ماکن اور مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی سربراہ ارون یادو اور اے آئی سی سی ترجمان رندیپ سرجے والا بھی اس بریفنگ میں موجود تھے، جس میں مودی کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا۔