مواضعات میں سروے کا کافی جوش و خروش

نارائن پیٹ /19 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نارائن پیٹ ٹاون میں جامع خاندانی سروے کیلئے وسیع تر انتظامات کئے گئے تھے ۔ متعلقہ حکام کے مطابق سروے کا کام پرامن اور پرسکون انداز میں مکمل کیا گیا ۔ دوپہر تک تقریباً 70 فیصد گھروں کا احاطہ کیا گیا ۔ سروے پر متعین سرکاری ملازمین سے عوام نے بھرپور تعاون کرتے ہوئے تمام تفصیلات فراہم کیں ۔ سروے کا کام صبح 8 بجے سے شروع کیا گیا ۔ دور دراز مقامات سے جو خاندان روزگار و تعلیم کیلئے معصل ہوئے تھے ۔ کل رات دیر گئے تک اپنے آبائی مقام اور گھروں کو پہونچے تھے ۔ آج صبح سے ہی سروے کا اثر دیکھا گیا ۔ تمام بازار ، ہوٹلیں ، پٹرول بنک ، بنک ، سنیما تھیٹر ، سرکاری دفاتر اور آر ٹی سی بسیس بھی بند رہیں ۔ ٹاون میں سڑکیں سنسان دیکھائی دے رہی تھیں ۔ پورے ٹاون میں دن کے مصروف اوقات میں بھی کرفیو کا منظر نظر آرہا تھا ۔ ایک ملازم سرکار کو 25 گھروں کا احاطہ کرنے کیلئے کہاگیا تھا اور صبح 8 بجے تا شام 8 بجے تک مکمل کرنے کے احکامات دئے گئے تھے ۔ سروے فارم 96 کالم اور چار صفحات پر مشتمل تھا جس کیلئے ایک خاندان کی تفصیلات درج کرنے کیلئے کم از کم آدھا گھنٹہ لگ رہا تھا ۔ تفصیلات میں راشن کارڈ کا تذکرہ نہیں ہے جس کو لیکر عوام کافی پریشان تھے ۔ مواضعات میں جامع سروے میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا ۔ دور دراز مقامات پر شہروں سے اپنے اپنے دیہاتوں کو لوٹنے سے گاؤں میں تہوار اور جشن کا ماحول نظر آرہا تھا ۔ بہرحال ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے فوری بعد جامع سماجی سروے سے عوام میں کافی توقعات پیدا ہوئی ہیں ۔ تلنگانہ عوام نے تو کافی دلچسپی اور جوش و خروش سے اس سروے میں حصہ لیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ تلنگانہ حکومت خاندانی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد بھی فلاح و بہبود کیلئے کئی اقدامات کرتی آئی ہے ۔