نئی دہلی 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) مختلف مواقع پر مختلف مسائل پر ممکن ہے کہ دونوں قائدین ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہے ہوں لیکن بی جے پی کے سینئر قائد ارون جیٹلی نے آج وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک منفرد شخصیت ہیںاور ہمیشہ خبروں میں رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو ’’سیانا آدمی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اُن میں محقق کا بھی ایک عنصر ہے۔ انہوں نے کسی بھی موضوع پر تقریر کیلئے ہمیشہ اچھی طرح تیاری کی ہے۔ منموہن سنگھ جہاں لوک سبھا میں قائد ایوان تھے، وہیں جیٹلی راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی 10 سالہ قیادت اختتام پذیر ہوچکی ہے اور اب وزیر اعظم باوقار انداز میں خوشدلی کے ساتھ عظیم تر احترام کے مستحق بن کر سبکدوش ہورہے ہیں۔
وہ ہمیشہ ایک بڑی سیاستداں قوم کی رہنمائی کیلئے قابل اعتماد شخصیت بنے رہیں گے ۔ جب وہ درست وقت پر اٹھ کھڑے ہوتے اور کسی بھی موزوں پر عدم اتفاق ظاہر کرتے تب بھی وہ عظیم تر احترام کے مستحق رہا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض حالات کی وجہ سے صدر کانگریس سونیا گاندھی وزارت عظمیٰ کو قبول کرنے سے انکار کرکے منموہن سنگھ کو وزیر اعظم مقرر کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے بحیثیت وزیر اعظم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ اور بات ہے کہ قوم سے خطاب کے دوران وہ کبھی بھی لیڈر محسوس نہیں ہوئے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی لیڈر قوم کو مخاطب کرتا ہے تو وہ اپنی پارٹی کی ہی ستائش کرتا ہے لیکن وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ ہندوستان کا خاندان اول خوش مزاج خاندان ہے۔ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ میں دو بہترین خصوصیات ہیں۔ وہ جب بھی کسی سنجیدہ موضوع پر وزیر اعظم کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے تو انہیں محسوس ہوتا کہ وہ سیاسی لیڈر کے بجائے کوئی محقق ہیں، اسی لئے وہ انہیں ’’سیانا آدمی ‘‘ کہتے ہیں۔ جیٹلی نے کہا کہ جب بھی منموہن سنگھ کوئی تبصرہ کرتے تو ان کے الفاظ نپے تلے ہوتے ان کی یکجہتی ہمیشہ شکوک و شبہات سے بالا تر رہی ہے۔ ان کا مطالعہ بہت اچھا ہے اور وہ کسی بھی موضوع کا جامع احاطہ کرسکتے ہیں۔
جیٹلی نے کہا کہ انہیں گزشتہ دس سال تک وزیر اعظم کے ساتھ قریبی تبادلہ خیال اور مشاہدہ کا موقع ملا ۔ گزشتہ پانچ سال سے جبکہ وہ قائد اپوزیشن راجیہ سبھا تھے، انہوں نے وزیر اعظم کی ہر مداخلت کو غور سے سنا ہے ۔ انہوں نے موضوع کے ساتھ ہمیشہ مکمل انصاف کیا ۔ اس بات میں کسی کو بھی شک و شبہ نہیںہوسکتا کہ منموہن سنگھ بہترین وزیر اعظم تھے۔ انہیں بحیثیت وزیرفینانس اس دور کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔ انہوں نے کہا کہ نرسمہا راؤ نے منموہن سنگھ کو ان کا حقیقی مستحقہ مقام فراہم کیا تھا ۔ تاریخ منموہن سنگھ کو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ ان کے نقوش قدم طویل مدت تک نشانِ راہ بنے رہیں گے ۔ ان کے اصلاحی پروگرام کو قومی مشاورتی کونسل کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ۔
وزیراعظم نے ملک کی مشکل وقتوں میں رہنمائی کی:کانگریس
نئی دہلی ۔ 13 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ وہ اس ہفتے عہدہ سے سبکدوش ہورہے ہیں، وزیراعظم منموہن سنگھ کی ’’قابل قیادت‘‘ کی آج کانگریس نے تعریف کی اور زور دیا کہ انہوں نے مشکل حالات میں ملک کی رہنمائی کی ہے۔ پارٹی ترجمان ابھیشک سنگھوی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ 81 سالہ ڈاکٹر سنگھ کا تجربہ اور قابل قیادت ، ان کی شخصی سالمیت اور ملک کی مشکل حالات میں رہنمائی کی صلاحیت قابل ستائش ہے اور ہندوستان کو ان 10 برسوں کے دوران کئی کارہائے نمایاں انجام دینے اور عزت و احترام حاصل کرنے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ڈاکٹر سنگھ کی یو پی اے ۔ I اور یو پی اے ۔ II کے دوران قابل رہنمائی کی ستائش کرتی ہے۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے ان کی اچھی صحت اور خوشی کی تمنا کا اظہار کیا۔