کاغذ نگر 14 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جناب محمد رضی حیدر سینئر ایڈوکیٹ و اسٹیٹ کنوینر مہاجنا سوشلسٹ پارٹی پریس کلب میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کل ہم یوم آزادی منارہے ہیں۔ 68 ویں یوم آزادی کے موقع پر ہم قومی پرچم لہراکر ،مٹھائیاں تقسیم کر کے ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے دراصل ہماری یہ آزادی جھوٹی ہے کھوکلی ہے کیونکہ دیش کی جنتا بھوکی ہے ۔ آزادی سے قبل ہم انگریزوں کے غلام تھے اور آزادی کے بعد ہم اعلی ذات کے غلام بن کر رہ گئے ۔ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں 90%غریب افراد موجود ہیں جن کا تعلق ایس ،ایس ٹی ،بی سی اور مسلم مائناریٹی سے ہے ان پر اعلی ذات کا طبقہ حکومت کرہرا ہے جو آبادی میں صرف دس فیصد ہے ۔ کیا آزادی کا یہی مفہوم ہے؟ تاریخ شاہد ہے تین ہزار سال قبل آر یائی لوگ ہندوستان آئے جو آبادی کے لحاظ سے صرف 10% تھے اور ہم ہندوستانیوں پر مسلط ہوگئے اور آج تک راج کررہے ہیں۔ ایس سی ، ایس ٹی ،بی سی اور مسلم مائناریٹی کو حقیر سمجھ کر ان کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہے ہیں حالانکہ حصول آزادی میں ہندو اور مسلم بھائیوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں اور صوفیائے کرام نے بھی ہندو مسلم کوقومی یکجہتی کا پیغام دیا اور ان کو ایک پلاٹ فارم پر کھڑا کرنا چاہا ۔ آپسی اتحاد و اتفاق کو بڑھانا چاہا اس کے باوجود پسماندہ طبقات میں آزادی کے بعد سے اب تک اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے ۔ سچ پوچھو تو پسماندہ طبقات کی نمائندگی کرنے والا اور ہمارے دانشور عریبوں کی رہبری کرنے سے قاصر ہیں اور اعلی ذات کے طبقہ کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں ان کی غلامی کررہے ہیں اسی لئے اعلی دات کا طبقہ پسماندہ طبقات کو سبز باغ دکھا کر اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے بہلا پھسلا کر بے وقوف بناکر اپنا الو سیدھا کررہا ہے جس کے نتیجہ میں غریب ،غریب سے غریب تر ہوتا چلا جارہا ہے اعلی ذات رہنما انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انتخابی وعدوں کو فراموش کرتے ہیں ۔ انہیں صرف اپنی کرسی کی فکر رہتی ہے ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو سے لے کر نریندر مودی تک وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آزادی کے ثمرہ سے محروم ہیں اور غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ جناب رضی حیدر نے کہا کہ آزادی کا مزہ تو اس وقت آتا جب شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے ۔
اعلی دات اور پسماندہ طبقات میں محبت اور بھائی چارگی ہوتی اور اونچ نیچ کا فرق مٹ جاتا ۔ یہ آزادی صرف نام کی ہے جس سے پسماندہ طبقات کو رتی برابر بھی خوشی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ آج بھی ان کا غریبی سے چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اگر پسماندہ طبقات کو آزادی کا حقیقی لطف اٹھانا ہوتو جس طرح 1947 ء میں ہم لوگوں نے انگریزوں کو ہندوستان سے مار بھگایا تھا اس طرح اعلی طبقات کو ہندوستان نے نکالنا ہوگا تب ہی ہندوستان میں ایک انقلاب آئے گا اور صحیح معنوں میں یہی ہماری حقیقت آزاد ی ہوگی ۔ اس موقع پر مسٹر جلم پلی سرینواس مادیگا ، جناب محمد سجاد انصاری ، جناب شاہباز حید ر،مسٹر مورتی ،مسٹر راکیش ،مسٹر ستیش ، جناب محمد ارشد ، جناب سمیع خان اور جناب محمد اظہر موجود تھے ۔