حیدرآباد 21 مئی (سیاست نیوز) سنٹرل کرائم اسٹیشن (سی سی ایس) پولیس نے نوجوانوں کو گورنمنٹ پرنٹنگ پریس میں ملازمت کا جھانسہ دیکر کروڑہا روپئے ہڑپنے والے 41 سالہ محمد سراج الدین کو تحقیقات کی غرض سے پولیس تحویل میں لے لیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ڈیکٹیو ڈپارٹمنٹ مسٹر روی ورما نے بتایا کہ سراج الدین ساکن یاقوت پورہ حیدرآباد اپنے والد محمد شہاب الدین کی جانب سے گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کی ملازمت سے رضا کارانہ طور پر سبکدوش ہونے پر بائینڈر کی حیثیت سے ملازمت حاصل کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد سراج الدین نے کئی افراد سے بڑے پیمانے پر سود پر قرض حاصل کیا لیکن وہ رقم ادا کرنے میںناکام رہا جس کے سبب اس نے بیروزگار نوجوانوں کو گورنمنٹ پرنٹنگ پریس چنچل گوڑہ میں جونیر اسسٹنٹ ‘منیجر اور دیگر مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا وعدہ کیا اور اُن سے کروڑہا روپئے حاصل کئے ۔ سال 2013اور 14 میں محمد سراج الدین نے رقم حاصل کرنے کے بعد رسید ‘پرامیسری نوٹس حوالے کئے تھے اور کچھ دن بعد جعلی تقرر نامے فراہم کئے ۔ آندھراپردیش کی وائی ایس آر کڑپہ ڈسٹرکٹ پولیس اور حیدرآباد کی مادنا پیٹ پولیس نے دھوکہ بازی میں ملوث ہونے پر اسے گرفتار کیا تھا لیکن دھوکہ دہی کے مقدمات سی سی ایس کو منتقل ہونے پر آج اسے پولیس تحویل میں لے لیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد سراج الدین کا ساتھی ساجد علی ہنوز مفرور ہے ۔