مغربی بنگال میں 3200 بوتھس پر دوبارہ رائے دہی کا مطالبہ

نئی دہلی ۔ 14 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) بائیں بازو کی چار پارٹیوں نے مغربی بنگال کے تقریباً 3200 پولنگ بوتھس فوری طور پر دوبارہ رائے دہی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے ان بوتھس پر مبینہ طور پر انتخابی دھاندلیاں کی ہیں ۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے ملک گیر پیمانہ پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبہ کی تائید میں جنتر منتر پر زبردست ریالی منعقد کی جہاں سی پی آئی (ایم ) کے پرکاش کرت ، سیتارام یچوری اور براندا کرت کے علاوہ سی پی آئی کے اے بی بردھن ، سدھاکر ریڈی اور ڈی راجہ کے علاوہ اے آئی ایف بی دیبراتاوشواس اور آر ایس پی کے متعدد قائدین نے بھی شرکت کی ۔ ریالی سے خطاب کرتے ہوئے پرکاش کرت نے کہا کہ انتخابات کے تیسرے ، چوتھے اور پانچویں مرحلہ میں ٹی ایم سی ورکرس نے 3200 پولنگ بوتھس پر دھاندلیاں کیں۔ ووٹرس کو ڈرا یا دھمکایا گیا ، مارا پیٹا گیا اور یہاں تک کہ ٹی ایم سی کے کچھ غنڈوں نے ان پر گولیاں بھی چلائیں ۔ جب سے ٹی ایم سی برسر اقتدار آئی ہے تب سے ہر انتخابات میں پارٹی کے ورکرس غنڈہ گردی کرتے آرہے ہیں۔

ناگالینڈ میں آج دوبارہ رائے دہی
کوہیما ۔ 14 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے ووکا ڈسٹرکٹ کے سائیز اسمبلی حلقہ کے پانچ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ رائے دہی کا حکم دیا ہے جو 15 مئی کو منعقد کئے جائیں گے ۔ ناگا لینڈ میں لوک سبھا انتخابات کیلئے ریٹرننگ آفیسر تیمئین ٹوائے نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ رائے دہی کے اوقات صبح 7 تا شام 4 بجے ہوں گے ۔ دریں اثناء حکمراں ناگا پیپلز فرنٹ (NPF) نے دوبارہ رائے دہی کے فیصلہ کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایت درج کی ہے ۔