مصر: بحریہ کی کشتی پر حملہ، 8 اہلکار لاپتہ، 5 زخمی

قاہرہ، 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مصر کو پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی کی دو الگ الگ خوفناک کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں نے سخت پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں کم از کم آٹھ افراد لاپتہ یا ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ دہشت گردی کا پہلا واقعہ مصری بحریہ کی ایک کشتی کے ساتھ پیش آیا، جس میں بحریہ کے آٹھ اہلکاروں کے لاپتہ ہو جانے کی اطلاع ہے۔ جبکہ دوسرا واقعہ صبح سویرے لیبیا کے اہم ترین شہر طرابلس میں مصری سفارت خانے سے موصول ہوا ہے۔ مصری فوج کے ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں نے بحریہ کی کشتی کو بحرمتوسط میں چہارشنبہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں پانچ فوجی اہلکار زخمی جبکہ آٹھ سمندر میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہ دہشت گردانہ کارروائی مصری صوبہ دامیتا کے ساحلی علاقے کے نزدیک سمندر میں کی گئی، تاہم جوابی کارروائی کر کے فوج نے حملہ آوروں کے زیر استعمال چار کشتیاں تباہ کردی ہیں جبکہ 32 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بحریہ کی کشتی کو نشانہ بنانے کے ساتھ ہی فوج کو طلب کر لیا گیا تھا۔ فوجی ترجمان محمد سمیر نے کہا ” پانچ زخمی ہونے والے فوجی اہلکاروں کوفوجی ہسپتال منتقل کرکے ان کا علاج شروع دیا گیا ہے۔ فوجی ترجمان نے مزید کہاکہ گرفتار افراد سے تفتیش کے علاوہ فوج نے فوری طور پر مختلف پہلووں سے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حملہ آور ماہی گیری کیلئے استعمال ہونے والی کشتیوں پر سوار تھے اس لئے اندازہ نہ ہو سکا کہ ان کشتیوں پر راکٹ ، راکٹ لانچر اور گرینیڈز یا دوسرا بھاری اسلحہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے جزیرہ نما سینائی میں حملے کرنے والے دہشت گردوں کی طرف سے ایسا کوئی حملہ سمندر میں نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ دوسری جانب ترجمان نے لاپتہ 8 اہلکاروں کی تلاش کے سلسلے میں کسی پیشرفت کا اپنے بیان میں ذکر نہیں کیا ہے۔ یاد رہے مصر نے سینائی میں سکیورٹی اہلکاروں کی ایک دہشت گردانہ کارروائی میں ہلاکت کے بعد تین ماہ کیلئے ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے۔ دہشت گردوں نے دوسری بڑی کارروائی مصر کے پڑوسی مگر سخت شورش زدہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مصری سفارت خانے کے قریب ایک کار بم دھماکے کی صورت میں کی گئی ہے۔