مشاعروں کے ذریعہ نوجوانوں کو اردو زبان سے جوڑنے کی کوشش

بودھن میں مشاعرہ سے جناب محمد فخر الدین کا خطاب
بودھن۔/8جون، ( فیکس ) اردو زبان و ادب کے فروغ میں مشاعروں کا ہر دور میں اہم حصہ رہا ہے۔ نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنے میں مشاعرے ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ نئی نسل کا انگریزی زبان کی جانب رجحان انہیں ان کی مادری زبان سے دور کرتا جارہا ہے۔ہمارا نہ صرف مذہبی اثاثہ بلکہ ادبی سرمایہ بھی اردو زبان میں اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ اس لئے نوجوانوں کو اردو سے واقف ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ نسل اردو سے عدم واقف ہوگی تب نہ صرف اردو ادب و تہذیب سے دور رہے گی بلکہ مذہب کی اصل روح سے بھی محروم ہوجائے گی۔بزم اردو ادب اردو مشاعروں اور طلباء و طالبات کے لئے مختلف تعلیمی پروگراموں کے ذریعہ نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنے کی کامیاب کوشش کررہی ہے جس کے لئے یقینا ذمہ داران بزم قابل مبارکباد ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معتمد بزم اردو ادب جناب محمد فخر الدین نے بزم کے زیر اہتمام نظامیہ اردو ہائی اسکول کے وسیع احاطہ میں منعقدہ عظیم الشان مشاعرہ سے قبل اپنے خطبہ استقبالیہ میں کیا۔ معتمد عمومی بزم اردو ادب بودھن شیخ احمد ضیاء نے ادبی اجلاس کی کارروائی چلائی۔ سید شبیر احمد نائب صدر بزم نے مہمانان خصوصی و مہمان شعراء کا استقبال کیا۔ جناب محمد نظام الدین قادری صدرنشین حاجی امام الدین ایجوکیشن ٹرسٹ کی صدارت میں منعقدہ اس عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ میں مہمان شعراء حامد بھساولی ( بھساول مہاراشٹرا) ڈاکٹر فاروق شکیل( حیدرآباد) وحید پاشاہ قادری ( مزاحیہ شاعر حیدرآباد ) فیروز رشید ( ناندیڑ مہاراشٹرا ) ریاض تنہا صدر ادارہ ادب اسلامی ریاست آندھرا پردیش و اڑیسہ، ڈاکٹر ضامن علی حسرت، تمیم نظام آبادی، شیخ احمد ضیاء، حسن سنجری سنجر، معین راہی اور اقبال شانہ نے کلام سنایا۔ مشاعرہ کی نظامت کے فرائض ملک کے نامور ناظم مشاعرہ جناب فیروز رشید نے کافی دلچسپ انداز میں انجام دیئے اور سامعین سے داد و تحسین حاصل کی۔ جناب محمد ظہیر الدین بابر سابق نائب صدر نشین بلدیہ، جناب باسط حسین سماجی کارکن، صغت اللہ خان عرف شیر خان، عبدالحمید قادری تاجر پارچہ، محمد مجید الدین قادری، کرسپانڈنٹ سکریٹری نظامیہ اردو ہائی اسکول و دیگر معززین نے بہ حیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ مشاعرہ میں کثیر تعداد میں شہر بودھن اور اطراف و اکناف کے محبان اردو نے شرکت کی اور مشاعرہ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ نوجوان اور خوش فکر شاعر حامد بھساولی، ڈاکٹر فاروق شکیل اور ضلع کے نمائندہ سنجیدہ و مزاحیہ شاعر شیخ احمد ضیاء کو سامعین نے کافی دلچسپی سے سنا اور کافی داد و تحسین سے نوازا۔ رات دیر گئے حسن سنجری سنجر کے شکریہ پر باوقار مشاعرہ کا اختتام عمل میں آیا۔