کریم نگر /21اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حالیہ دنوں آلیر میں پولیس کی جانب سے فرضی انکاونٹر جس میں وقار الدین اور دیگر چار جوکہ سنٹرل جیلوں میں قید و بند کی زندگی گذار رہے تھے اور تاحال انہیں کسی بھی عدالت نے مجرم ثابت نہیں کیا انہیں 6 اپریل کو آلیر منڈل ضلع نلگنڈۃ میں ایک کہانی گھڑتے ہوئے انہیں گولی ماردی گئی ۔ اس کی تحقیاقت کیلئے تاحال حکومت تلنگانہ نے ایس آئی ٹی کے ذریعہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے ۔ لیکن یہ ایک سازش ہے کہا جارہا ہے ۔ اس لئے کہ 17 پولیس والوں کے پاس حفاظت کیلئے عصری ہتھیار تھے اور پانچوں مطومین زنجیروں اور ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے ۔ یہ پانچوں جنہیں عدالت سے رہائی ملنے والی تھی ۔ پولیس اپنی بدنامی سے بچنے کیلئے وقار الدین اور ان کے چار ساتھیوں کو قتل کردیا ۔ اس معاملہ کی تحقیاقت کیلئے سی بی آئی یا ہائی کورٹ کے جج کے ذریعہ تحقیقات کروائے جانے کا کریم نگر کل جماعتی اجلاس میں فیصلہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی شاح کریم نگر محمد خیرالدین ، محمد عبدالصمد نواب معتمد خادمان ملت کی زیر قیادت میں مختلف ائمہ مساجد ، مختلف تنظیموں کے صدور جناب صلاح الدین مصباحی مشتاق علی احمد ، سید سلیمان سید محی الدین ایڈوکیٹ ساجد وغیرہ نے ضلع کلکٹر کریم نگر کے چیمبر میں ملاقات کرتے ہوئے ایک یادداشت حوالے کی ۔