مسلمان اپنی زندگی کو اسلامی سانچہ میں ڈھال لیں

مدرسہ مفتاح العلوم سدی پیٹ میں مولانا شاہ جمال الرحمن کا خطاب
نرسا پور۔/15جون، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے طرز زندگی سے غیر اسلامی رسم و رواج کو ترک کردیں اور اسلامی زندگی کا عملی نمونہ بن جائیں اور وہ اپنے آپ کو علماء برادری سے جوڑ لیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی نے کیا۔ انہوں نے آج یہاں نرسا پور میں مدرسہ مفتاح العلوم کے سالانہ جلسہ کو مخاطب کیا اور 5حفاظ کی دستار بندی کی۔ اس موقع پر حافظ نظیر الدین سبیلی ، مفتی نجیب الدین، مفتی نثار احمد قاسمی، مفتی حامد کمال، مفتی حفیظ و دیگر نے شرکت کی۔ مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح جان لینی اور سمجھ لینی چاہیئے کہ ملک میں اسپین کی طرح سازش رچی جارہی ہے۔ اسپین میں مسلمانوں کے 800سالہ دور حکومت کو ختم کرنے کیلئے مخالفین اسلام نے پہلے مسلمانوں کو علماء برادری سے دور اور ان کے تعلق کو علماء سے ترک کرنے کے بعد مطالعہ کے ذوق کو ختم کروایا، جس کے سبب مسلمان آہستہ آہستہ علماء برادری سے دور ہوگئے اور یہ عمل مسلمانوں کے زوال اور مخالفین کی کامیابی کا سبب بن گیا اور موجودہ دور میں تعلیمی نظام میں مداخلت اور ترغیبات اور موذن اور اماموں کو مشاہرہ اور مدرسہ بورڈ کے نام پر ایسی پیشکش کرتے ہوئے مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور ان سازشوں کا مقابلہ اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کے لئے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ بن جائیں۔ اپنی زبان، آنکھ، ہاتھ، پیر نیز روزانہ کے ہر وہ عمل کو اسلام کے مطابق گذاریں جس کی تعلیم اسلام میں دی گئی ہے۔ انہوں نے حضور اکرم ؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور خواتین سے کہا کہ وہ قوم کی تعمیر اور ان کے مستقبل میں اہم رول ادا کرسکتی ہیں۔انہیں چاہیئے کہ وہ اسلامی مائیں بن جائیں۔ دنیا میں اعلیٰ تعلیم سے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والی ماؤں کو چاہیئے کہ وہ دنیا کے ساتھ ساتھ دین کو اولین ترجیح دیں اور دنیا کی فکر میں اپنے نونہالوں کی آخرت کو تباہ نہ کریں۔ دنیا کی گرمی، دھوپ اور تپش پر تڑپ اٹھنے والی ماؤں کو چاہیئے کہ وہ آخرت کی تپش اور دوزخ کی آگ کا تصور کرتے ہوئے اپنی نسلوں کی تربیت کریں اور غیر اسلامی طرز عمل کو اپنی زندگیوں سے نکال دیں۔ اس جلسہ کو دیگر مہمانوں نے بھی مخاطب کیا۔ جلسہ کا آغاز بعد نماز عشاء احاطہ مدرسہ مفتاح العلوم نرسا پور میں عمل میں آیا۔ جلسہ کا آغاز حافظ و قاری امام مسجد صفاء نرسا پور حافظ شیخ منیر المعروف مفتی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ نظامت حافظ و قاری صدر مدرسہ مفتاح العلوم نرسا پور حافظ محمد قطب الدین نے انجام دی۔اس موقع پر 5خوش نصیب حفاظ کرام کی دستار بندی انجام دی گئی جن میں حافظ محمد عامر علی ولد محمد اشرف علی الیکٹریسٹی ڈپارٹمنٹ نرسا پور، محمد امتیاز علی ولد محمد فیض علی دولت آباد، محمد وسیم قریشی ولد محمد عبدالرشید ( حیدرآباد )، فہیم علی ولد حیدر علی ایس ٹی او نرسا پور، محمد عبدالہادی ولد عبدالقادر نرسا پور کی دستار بندی کی گئی۔ حفاظ کرام اور اولیاء طلبہ و اساتذہ مدرسہ مفتاح العلوم کے ذمہ داروں کو تنظیم محبان مفتاح العلوم کے ارکان محمد علیم الدین،، انور علی، منصور علی، رضوان، نعیم الدین، شیخ امجد و دیگر نے مبارکباد پیش کی۔