محبوب نگر۔/18فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ علحدہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی مکمل ترقی کیلئے کئی ایک ٹھوس اقدامات کررہے ہیں۔ ریاست میں مسلمانوں کو دیگر طبقات کے مساوی حقوق فراہم کرنے کیلئے ریاستی حکومت جامع منصوبہ بندی کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقامی ایم ایل اے و پارلیمنٹر ی سکریٹری سرینواس گوڑ نے مستقر محبوب نگر پر ٹی آر ایس کی رکنیت سازی مہم کے موقع پر منعقدہ کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمد اقبال نائب صدر ریاستی ٹی آر ایس مائناریٹی سل اور عبدالواحد تاج نائب صدر ضلع ٹی آر ایس کیمپ کا اجتماع کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت مسلمانوں کی ترقی کیلئے بے مثال اقدامات کررہی ہے۔ اجمیر میں درگاہ شریف سے ایک کیلو میٹر کے احاطہ میں ریاست تلنگانہ کے زائرین کے قیام کیلئے 5کروڑ کے صرفہ سے حیدرآباد بھون کی تعمیر کا منصوبہ تیار کررہی ہے۔ اس ضمن میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی نے حال ہی میں اجمیر کا دورہ بھی کیاہے۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی فلاحی اسکیمات سے بھر پور استفادہ کریں۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے ضلع کو 3کروڑ کی منظوری عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے خانگی تنظیموں سے اس اسکیم کی تشہیر کی خواہش کی۔ ضلع ٹی آر ایس ممبر شپ انچارج مارکنڈیا نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے فلاحی اسکیمات سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ آئندہ دنوں میں تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کا صفایا ہوجائے گا۔ محمد اقبال ریاستی نائب صدر مائناریٹی سیل نے کہا کہ اب عوام واقف ہوچکے ہیں کہ چیف منسٹر زبانی جمع خرچ نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کے ساتھ حقیقی ہمدردی رکھتے ہیں۔ اقلیتوں کی ترقی کیلئے 1030کروڑ کا بجٹ اس کا ثبوت ہے۔ آسرا اسکیم کے تحت وظائف کی رقم میں غیر معمولی اضافہ، شادی مبارک اسکیم کے تحت 51ہزار کی رقم راست دلہن کے کھاتے میں جمع کرانا ایک مثالی اقدام ہے جبکہ گزشتہ حکومتوں میں معمولی سا ناقص سامان ہی دیا جاتا تھا۔ انہوں نے عوام بالخصوص اقلیتوں سے بڑی تعداد میں ٹی ار ایس کی رکنیت حاصل کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر ٹی آر ایس قائدین راجیشور گوڑ، بیکم جناردھن، کشور ریڈی، سریندر ریڈی، شاردا، محمد مقبول، امتیاز، اسحق، پی محمود، مختار پاشاہ، احمد بن عبداللہ بازھر، مظہر، منیر، چاند پاشاہ، محمد بشیر الدین کے علاوہ دیگر پارٹی کارکن موجود تھے۔ عبدالواحد تاج نے شکریہ ادا کیا۔ کیمپ میں کانگریس اور تلگودیشم کے سینکڑوں کارکن ٹی آر ایس سے وابستہ ہوگئے۔