مسرت عالم کی رہائی سے کشمیریوں میں مسرت

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے آج کہا ہے کہ کٹر علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کوئی غلط نہیں ہے اور یہ ادعا کیاکہ مسرت عالم نے کبھی بندوق کا استعمال نہیں کیا بلکہ وہ سال 2002 ء کے سنگباری واقعہ کی پیداوار ہیں جس کا وہ نشانہ بنے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ان کے والد مفتی محمد سعید کی زیرقیادت جموں و کشمیر حکومت نے صرف سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے علیحدگی پسند لیڈر کو رہا کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ مسرت عالم کی رہائی کا معاملہ پارلیمنٹ میں بھی گونج اُٹھا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اُسے ناقابل قبول قرار دیا تھا۔

تاہم صدر پی ڈی پی نے آج انڈیا ٹوڈے مذاکرہ میں کہاکہ عالم کی رہائی میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ یہ رہائی ایک غلط اقدام تھا، جس کے باعث حلیف جماعت بی جے پی کے ساتھ پی ڈی پی کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ کی ہدایات کی تعمیل غلط ہے تو ہم نے بھی یہی کیا ہے اور جب کشمیر کا معاملہ آتا ہے تو سپریم کورٹ پر انگشت نمائی کی جاتی ہے۔

اُنھوں نے عدالت کے ان احکامات کا حوالہ دیا کہ مسرت عالم کی قید میں اس وقت توسیع دی جاسکتی ہے جب ان کے خلاف نئے الزامات وضع کئے جائیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی کا اتحاد عوامی رائے کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور عدالت کے فیصلہ پر دوہرا معیار نہیں ہونا چاہئے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ فہرست میں نمبر 28 کا انتخاب کرکے افضل گرو کو پھانسی دے دی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اور جب سپریم کورٹ کہتی ہے کہ مسرت عالم کو رہا کردیا جائے جنھیں بغیر کسی الزامات کے محروس کردیا گیا ہے لیکن میڈیا سوال اُٹھارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مسرت عالم اگرچیکہ عدلیہ کی غیر جانبداری کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ان کے حامیوں نے عدالت العالیہ کے ممنون و مشکور ہیں جس کی ہدایت پر ان کے قائد کی رہائی عمل میں آئی ہے۔