مرکزی وزیر پٹرولیم کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی برہمی کا سامنا

نئی دہلی۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان کو آج راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اپوزیشن ارکان نے ان پر الزام عائد کیا کہ وہ صدرنشین حامد انصاری کی اس ہدایت کے بعد کہ وزراء کو راست جوابات اور سوالوں کے نکات کے بارے میں واضح جواب دینا چاہئے، آدھار کی بنیاد پر راست سبسڈی کی گھریلو پکوان گیاس صارفین کو منتقلی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے پردھان نے کہا تھا کہ گھریلو پکوان گیاس (ایل پی جی) صارفین کو عام شرائط کے مطابق سبسڈی کی رقم منتقل کی جارہی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کو ایک سیاسی بیان میں تبدیل کردیا جس پر اپوزیشن ارکان برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایل پی جی (ڈی بی ٹی ایل) اسکیم ایک اچھی اسکیم ہے، لیکن اس کا آغاز سابق یو پی اے حکومت نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے مقصد سے عام انتخابات سے عین قبل کیا تھا۔ مرکزی وزیر پٹرولیم سے سوال کیا گیا تھا کہ اس اسکیم کا سلسلہ منقطع کردینے کی کیا وجوہات ہیں، ارکان جاننا چاہتے تھے کہ جب اس کو دوبارہ آغاز کرنے کی تجویز رکھتی ہے تو آدھار کارڈ کے اجراء کی تعداد ناقص ہونے کی وجہ سے بینکوں کے اکاؤنٹ موجود نہ ہونے کی وجہ سے کیا اس پر موثر انداز میں عمل آوری ہوسکے گی۔ کانگریس ارکان بشمول آنند شرما نے پردھان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ راست جواب نہیں دے رہے ہیں۔ یہ اسکیم جون 2013ء میں شروع کی گئی تھی اور عام انتخابات کا انعقاد تقریباً ایک سال بعد عمل میں آیا تھا۔ کانگریس کے ستیہ ورت چترویدی نے کہا کہ صدرنشین ارکان کو ہدایت دے چکے ہیں کہ واضح سوالات پوچھے جائیں اور وزراء کو بھی واضح جواب دینے چاہئیں ، جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان کے بارے ہی میں جواب دینا چاہئے۔ اس پر حامد انصاری نے بلند آواز میں کہا کہ یہ بالکل درست ہے۔ پردھان نے کہا کہ ڈی بی ٹی ایل اسکیم سے انتخابی نتائج مختلف ہوسکتے تھے اس لئے اس اسکیم کا آغاز کرنے سے پہلے اس سے ہونے والے سیاسی فوائد کا اندازہ لگالیا گیا تھا، لیکن ناقص تیاری کی وجہ سے یہ اسکیم ناکام ثابت ہوئی۔ صارفین کو نقد سبسڈی کی ادائیگی کی جانی چاہئے تھی تاکہ وہ بازار کی قیمت میں راست گیاس سلنڈرس خرید سکیں۔