مخلوط اسمبلی میں کانگریس او ربی جے پی کی واپسی ممکن نہیں۔ دیوی گوڑہ

رائے دہی سے قبل کے سروے جس میں جنتا دل سکیولر کو مخلوط اسمبلی میں تیسر ے نمبر کی پارٹی کے طور پر پیش کیاگیاہے کو مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم دیوی گوڑہ نے دعوی کیاہے کہ نئے ایوان میں ان کی تعداد انتی رہے گی کہ وہ اقتدار کا دعوی پیش کرسکیں گے
کرناٹک۔ کرناٹک میں اپنی آخری انتخابی جنگ میں مقابلہ کررے 85سال کے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوی گوڑہ نے مخلوط اسمبلی میں جنتا دل سکیولر کو تیسری پارٹی کے درجہ فراہم کرنے والے رائے دہی سے قبل کے سروے کو مسترد کرتے ہوئے اس با ت کادعوی کیاہے کہ ان کے پارٹی ایوان میں اقتدار کا دعوی پیش کریگی۔

بنگلور کے اپنے گھر میں ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے وہ وزیراعظم نریندر مودی سے سخت ناراض اور چیف منسٹر سدارامیہ پر سخت برہم ہیں کیونکہ سدارامیہ نے ان کی پیٹھ میں چھر اگھونپا ہے۔

انہو ں نے کہاکہ بی جے پی کے چیف منسٹر امیدوار بی ایس یدوراپا نے ان کے بیٹے ایچ ڈی کمار ا سوامی کو اسوقت دھوکہ دیا تھا جب 2006-2007کے درمیان میں وہ چیف منسٹر تھے۔ انٹرویو کے کچھ اقتباسات یہاں پر پیش کئے جارہے ہیں۔

اپ کی مہم کیسی چل رہی ہے؟ اور آپ کو کتنا بھروسہ ہے؟
میں دو قومی سیاسی پارٹیوں کامقابلہ کررہاہوں ۔ تمام مسائل کے باوجود ہم کرناٹک میں بہتر کررہے ہیں۔جو لوگ میری پارٹی کو30-40سیٹوں پر اکتفا کرنے کو کہہ رہے ہیں وہ زمینی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔مودی ’ صاحب‘ نے ابتداء میں تو کچھ میٹھے الفاظ میرے لئے کہے۔

مگر ایک روز قبل انہوں میں مجھ پر شدید لفظی حملہ کیا( وزیراعظم مودی نے عوام سے جنتادل( ایس) کو ووٹ دیکر اپنا ووٹ ضائع نہ کرنے کی اپیل کی تھی) اس سے کیاظاہر ہوتا ہے؟۔ ابتداء میں ا ن کے پاس صحیح جانکاری نہیں تھی۔ جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ ہم تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں انہوں نے یوٹرن مار لیا۔ کانگریس بھی ڈری ہوئی ہے۔

اسی وجہہ سے وہ ہمیں بی جے پی کی بی ٹیم کہہ رہی ہے۔ دونوں سیاست کی تمام حدیں پار کرچکے ہیں۔

یہاں تک اگر جے ڈی ( ایس) کچھ بہتر کرلے گی تو حکومت بنانے میںآپ کا اہم رول رہے گا۔ سابق میںآپ نے بی جے پی او رکانگریس دونوں کیساتھ حکومت بنائی ہے ۔ اس مرتبہ آپ کس کے ساتھ جائیں گے؟

زمینی حالات تبدیل ہیں۔ سال 2013میں چالیس سیٹیں تھیں اور 48کے ساتھ ہم دوسرے نمبرپر تھے۔ آپ کیو ں نہیں سونچتے کہ میں مایاوتی کے ساتھ اتحاد کروں گا؟ ان کی بہوجن سماج پارٹی( بی ایس پی) جہاں سے وہ مقابلہ کررہی ہے ان حلقہ جات میں تین ہزار سے 25ہزار تک ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی ہوسکتی ہے۔ ہمیں کم تناسب سے جہاں شکست ہوسکتی ہے وہا ں پر ان سے اتحاد ہمارے لئے مددگار ثابت ہوگا۔

تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کرناٹک میں تلگولوگوں سے ہمارے حق میں ووٹ کے استعمال کی اپیل کریں گے۔ ٹی ڈی پی سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے بھی اشارہ دیاہے۔

کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی ہماری پارٹی کے لئے مہم چلارہے ہیں۔میں نے مایاوتی سے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد بی جے پی کے ساتھ ناجانے کا عہد کریں۔بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ جانے کا دوفیصد سوال پیدا نہیں ہوتا ۔

ہمیں70-75ہوسکتا ہے80سیٹیں بھی حاصل ہوں۔ میں اسمبلی حلقہ جات سطح پر اس با ت کاحساب لگا رہاہوں ۔ ہوسکتا ہے بی ایس پی کودو یاتین سیٹیں حاصل ہوں‘ آزاد امیدوار 10-12سیٹوں پر کامیاب ہوسکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس خلا ء کو پرکرنے کے لئے ہم کام کریں گے۔

جو ہمیں تیسرا مقام دے رہے ہیں وہ حیران ہوجائیں گے۔ ہمیں امید ہے ہم نمبرایک پارٹی بنیں گے۔ کنگ میکر کا رتبہ ہمیں نہیں چاہئے۔ یہ دیگر دو پارٹیو ں کانگریس اوربی جے پی کے لئے ہوگا۔ جب ہم سب سے اوپر رہیں گے تو جو حکومت بنانا چاہتے ہیں وہ ہمارے دروازے پر ائیں گے ۔

میں نے اپنے بیٹے( ایچ ڈی کمارا سوامی) سے کہہ دیا ہے کہ وہ بی جے پی اورکانگریس کے متعلق غور وخوص نہ کرے۔ ہم حکومت بناتے ہیں تو عوام کے لئے کام کریں گے۔ ورنہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گیلہذا نمبر آپ کے پاس نہیں ہوں گے تو آپ دوسروں کی بھی مدد نہیں کریں گے۔ اس سے عدم توازن پیدا ہوگا ‘ ہوسکتا دوبارہ الیکشن کرایاجائے ۔ ایسے حالات پیدا نہیں ہونا چاہئے۔

Leave a Comment