مخالف حکومت مارچ ‘ عمران خان کی کار پر فائرنگ

اسلام آباد 15 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نواز شریف کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے عزم کے ساتھ ہزارہا مخالف حکومت مظاہرین نے آج پرچم لہراتے ہوئے دارالحکومت کی سمت مارچ کیا اور گجرانوالا میں ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اس سے قبل کچھ نامعلوم بندوق برداروں نے اس احتجاج کے روح رواں اور کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان کی گاڑی کو نشانہ بنایا ۔ عمران خان اور تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی قیادت والی دو جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد تک مارچ کا منصوبہ ہے تاکہ نواز شریف پر قبل از وقت انتخابات کروانے کے مطالبہ پر زور دیا جائے ۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہوئے انتخابات کو ابھی ایک سال کا بھی عرصہ نہیں گذرا ہے جس میں نواز شریف کی جماعت کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ عمران خان کی ترجمان انیلا خان نے کہا کہ صدر پاکستان تحریک انصاف کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے لیکن وہ زخمی نہیں ہوئے ہیں۔ گاڑی پر فائرنگ کے بعد عمران خان نے فیصلہ کیا کہ وہ بلیٹ پروف گاڑی میں سفر کریں گے تاکہ کسی بھی حملہ کی صورت میں ان کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ گجرانوالا میں عمران خان کے قافلہ پر سنگباری کرنے والے ایک ہجوم نے حملہ بھی کیا لیکن اس میں بھی پولیس نے مداخلت نہیں کی ۔ عمران خان کے قافلہ پر فائرنگ کے واقعہ کی توثیق کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے لیڈر شیخ رشید نے کہا کہ قافلہ پر چار مرتبہ حملہ کیا گیا ہے اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہر کام پولیس کی موجودگی میں ہورہا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب کچھ نواز شریف کی ایما پر ہو رہا ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے کارکن ایک پولیس ویان پر کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کے حامیوں پر سنگباری کی ہے ۔ ٹیلی ویژن تصاویر میں دکھایا گیا کہ کچھ لوگ عمران خان کی پارٹی کے پوسٹرس پھاڑ رہے ہیں اور عمران کے حامیوں سے انکا ٹکراؤ ہو رہا ہے ۔

مخالف حکومت احتجاج کرنے والے دونوں ہی گروپس کے قائدین چاہتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک عظیم الشان ریلی منعقد کی جائے تاکہ حکومت ان کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے ۔ یہ لانگ مارچ جو 370 کیلومیٹر طویل ہے کل دارالحکومت کیلئے روانہ ہوا تھا ۔ عمران خان نے لاہور کے زماں پارک سے اپنا آزادی مارچ شروع کیا جبکہ علامہ طاہر القادری نے اپنا انقلاب مارچ ماڈل ٹاؤن سے شروع کیا ہے ۔ عمران خان کا مارچ گجرانوالا تک پہونچ گیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ علامہ طاہر القادری کی تحریک کا مارچ اسلام آباد کی روڈ پر عمران خان کے مارچ سے آگے ہے ۔ عمران خان کا مارچ تین حصوں میں تقسیم ہوکر چل رہا ہے ایک حصہ دریائے جہلم تک ہپونچ گیا ہے ۔ دوسرا بھی بہت جلد وہاں پہونچنے والا ہے ۔ عمران خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے ۔