محمد سمیع کی بیوی حسین جہاں پولیس کی حراست میں

نئی دہلی ۔29 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد سمیع اور ان کی اہلیہ حسین جہاں کا تنازعہ ایک مرتبہ پھر سرخیوں میں ہے۔ امروہہ پولیس نے محمد سمیع کی اہلیہ حسین جہاں کو امن میں خلل ڈالنے کے خدشہ میں گرفتار کرلیا ہے۔ دفعہ 151 میں جرمانہ کرنے کے بعد حسین جہاں کو لے کر پولیس ایس ڈی ایم عدالت پہنچی ہے۔ خیال رہے کہ حسین جہاں گزشتہ رات ڈیڈولی تھانہ علاقہ کے سہس پور علی نگرگاوں میں محمد سمیع کے آبائی گھر پر پہنچی تھیں ، جہاں محمد سمیع کی والدہ اور افراد خانہ سے حسین جہاں کی کہا سنی ہوئی۔ اس کے بعد حسین جہاں نے ان کے گھر پر قبضہ کرلیا۔ حسین جہاں نے پولیس کی روک کے باوجود میڈیا نمائندوں کے سامنے اپنا درد بیان کیا اور کہا کہ کس طریقہ سے پولیس ان پر زیادتی کررہی ہے۔ حسین جہاں نے کیمرے کے سامنے کہا کہ دیکھئے رات کے بارہ بجے پولیس مجھے گھر سے اٹھا کر لائی ہے۔ میں نے کون سا جرم کردیا ہے ؟ میں اپنے شوہر کے گھر آئی ہوں اور یہ میرا حق ہے۔ زبردستی میرا فون ان لوگوں نے چھین لیا۔ کون سا قانون ہے یہ ؟ کیسی دادا گیری ہے ؟ رات کے بارہ بجے کسی مجرم لڑکی کو بھی تھانہ نہیں لایا جاتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں پہنچی تھیں تو حسین جہاں نے کہا کہ میں اپنے سسرال پہنچی تھی ، جہاں مجھے شادی کرکے لایا گیا تھا۔ وہ میرے شوہر نے بنایا ہے ، میں اپنی ملازمہ اور بچی کے ساتھ وہاں آئی ہوں ، لیکن پولیس زبردستی میرا فون چھین کر مجھے یہاں پر لے کر آئی ہے۔ میں گھر پر سورہی تھی۔ اس دوران حسین جہاں نے میڈیا سے مدد کی بھی فریاد کی۔ انہوں نے پوچھا کیوں یوگی حکومت نہیں دیکھ رہی ؟، کیوں مودی سرکار نہیں دیکھ رہی ؟ بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو اور میں بھی ایک بیٹی ہوں ، کس طرح میرے ساتھ برتاو کیا جارہا ہے۔ رات کے بارہ بجے مجھے میرے بستر سے کھینچ کر دھکا مارکر لایا گیا ہے۔ میرے ہاتھ سے فون چھین لیا گیا۔