نئی دہلی 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) ملک بھر میں لاکھوں پیرا ٹیچرس کے روزگار سے محروم ہونے کا اندیشہ ہے ۔ سی پی آئی ایم رکن نے آج راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے مرکز سے مداخلت کی خواہش کی ۔ تپن کمار سین نے کہا کہ کئی لاکھ اساتذہ جنہیں ملک بھر میں ریگو لر اساتذہ کے بجائے تقرر کیا گیا ہے ‘مارچ تک وہ روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں کیونکہ حق تعلیم کے تحت انہیں ڈپلومہ رکھنا ضروری ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ صرف مغربی بنگال میں ایسے تقریبا 53 ہزار ٹیچرس ہیں جن کی روزگار کی معیاد 31 مارچ کو ختم ہورہی ہے ۔ انہو ںنے مرکزی حکومت سے اس معاملہ میں مداخلت کی خواہش کرتے ہوئے کہا کہ ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی خاندانوں کا روزگار اس سے مربوط ہے ۔ کوئی بھی ریاستی حکومت مختصر سے وقفہ میں اس قدر زیادہ تعداد میں اساتذہ کا تقرر بھی نہیں کرسکتی ۔ منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ وہ وزیر فروغ انسانی وسائل کی توجہ اس جانب مبذول کروائیں گے ۔ بھوشن لعل جنگڑے (بی جے پی ) نے بلاسپور کی سنٹرل یونیورسٹی گرو گھاسی داس وشوا ودیالیہ میں وسائل کے فقدان کا مسئلہ اٹھایا ۔ انہو ںنے کہا کہ کروڑہا روپئے اس کی ترقی کیلئے منظور کئے گئے لیکن یہاں کوئی سہولیات نہیں ہیں۔